وقف بورڈ کے قضات سیکشن میں بے قاعدگیوں پر نظر رکھنے صدرنشین محمد سلیم کی ہدایت

   

درمیانی افراد کے ذریعہ عوام سے بھاری رقومات کی وصولی، عہدیدار اور ملازمین کے ملوث ہونے کا شبہ، وقف بورڈ کو بھاری نقصان
حیدرآباد۔ 23 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے قضات سیکشن میں جاری بے قاعدگیوں اور سرٹیفکیٹس کی اجرائی کے لیے عوام سے بھاری رقومات وصول کرنے کی شکایات پر صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عبدالحمید کو معاملے کی جانچ کرتے ہوئے ضروری کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قضات سیکشن میں حالیہ کچھ عرصہ سے سرٹیفکیٹس کی اجرائی کا باقاعدہ ایک اسکام چل رہا ہے جسے سیکشن میں کام کرنے والے عہدیداروں اور ملازمین کی سرپرستی حاصل ہے۔ طریقہ کار کے مطابق سرٹیفکیٹس حاصل کرنے کے لیے متعلقہ افراد کو رجوع ہونا پڑتا ہے لیکن قضات سیکشن میں درمیانی افراد کا راج چل رہا ہے اور وہ عوام سے من مانی رقومات حاصل کرتے ہوئے جلد سرٹیفکیٹ دلانے کا جھانسہ دے کر وقف بورڈ کی آمدنی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ نکاح، طلاق، خلع اور تبدیلی مذہب کے سرٹیفکیٹس کے حصول کے لیے یکساں فیس مقرر ہے لیکن درمیانی افراد کی ملی بھگت سے بھاری رقومات حاصل کرتے ہوئے جلد سرٹیفکیٹس حاصل کرنے کے خواہشمندوں کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ حالیہ عرصہ میں بورڈ نے خلع اور طلاق کے سرٹیفکیٹس کی اجرائی کو روک دیا تھا جس کے نتیجہ میں زیر التوا درخواستوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوگیا۔ اب جبکہ وقف بورڈ نے طلاق اور خلع کے سرٹیفکیٹس کی اجرائی کا فیصلہ کیا ہے لہٰذا درمیانی افراد کی چاندی ہوگئی اور قضات سیکشن سے وابستہ افراد مقررہ فیس کے بجائے زائد رقم حاصل کرتے ہوئے بدعنوانیوں میں ملوث ہیں۔ واضح رہے کہ سرٹیفکیٹس کے لیے تتکال میں 400 اور عام زمرے میں 300 روپئے فیس مقرر ہے۔ تتکال میں ایک دن میں سرٹیفکیٹ جاری کردیا جاتا ہے جبکہ عام زمرے میں 3 تا 4 دن میں سرٹیفکیٹ کی اجرائی کی شرط رکھی گئی ہے۔

لیکن درمیانی افراد کی ملی بھگت سے عام زمرے میں بڑی تعداد میں درخواستیں داخل کرتے ہوئے ضرورت مندوں سے بھاری رقم وصول کرکے دوسرے دن ہی سرٹیفکیٹس کی اجرائی عمل میں آرہی ہے۔ اس سے ہزاروں روپئے کا روزانہ وقف بورڈ کو نقصان ہورہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شرائط کے مطابق کوئی بھی شخص بڑی تعداد میں درخواستیں داخل نہیں کرسکتا لیکن یہاں بروکرس کو مکمل چھوٹ ہے اور وہ مختلف قاضیوں سے ملی بھگت کے ذریعہ بیک وقت بڑی تعداد میں درخواستیں داخل کرتے ہیں اور درخواستوں کی اجرائی کے بعد ہوم ڈیلیوری قاضیوں کے گھر تک کی جاتی ہے۔ وقف بورڈ کو سرٹیفکیٹ سے الترتیب 300 اور 400 روپئے کی آمدنی ہورہی ہے جبکہ سیکشن کے بروکرس سے ملی بھگت رکھنے والے ملازمین اور عہدیداروں کی روزانہ کی آمدنی ہزاروں روپئے میں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ میں قضات سیکشن کی ڈیمانڈ سب سے زیادہ ہے اور ہر کوئی اس سیکشن میں کام کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ سیکشن میں تبادلے کے لیے سیاسی سطح پر سفارشات چلائی جاتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وقف بورڈ کا بایومیٹرک حاضری کا سسٹم عملاً ناکام ہوچکا ہے۔ ملازمین 12 اور 1 بجے تک بھی دفتر پہنچتے ہیں اور بایومیٹرک میں ان کی حاضری صبح 10:30 بجے درج ہوتی ہے۔ اس کی وجہ وقف بورڈ کے کمپیوٹر سیکشن میں ہیرا پھیری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمپیوٹر سیکشن کے افراد اپنے قریبی ساتھیوں کی تاخیر سے آمد کے باوجود ریکارڈ میں مقررہ وقت درج کردیتے ہیں۔ جلال الدین اکبر آئی ایف ایس نے اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے وقف بورڈ میں ورک کلچر پیدا کرنے کے لیے جن اصلاحات کا آغاز کیا تھا وہ بتدریج ختم ہوچکی ہے۔ موجودہ صدرنشین محمد سلیم نے ڈسپلین بحال کرنے کے لیے سخت گیر اقدامات کی ہدایت دی۔ وقف بورڈ کے انسپکٹر آڈیٹرس کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ڈیلی ٹور ڈائیری تیار کرنے کی ہدایت دی گئی تھی لیکن اس پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔ انسپکٹرس آڈیٹرس کی سرگرمیوں پر بورڈ کی کوئی نگرانی نہیں ہے۔ وہ اکثر و بیشتر حیدرآباد میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اضلاع میں جب انسپکٹر آڈیٹر موجود نہ ہو تو پھر اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا۔