چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی عدم موجودگی سے کارکردگی ٹھپ
حیدرآباد۔ 3 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے ملازمین تین دن گزرنے کے باوجود ماہ ڈسمبر کی تنخواہوں سے محروم ہیں۔ وقف بورڈ میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی عدم موجودگی کے باعث ملازمین کو تنخواہیں جاری نہیں کی جاسکیں۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے پاس چیک پاور ہے اور ان کے غیاب میں کوئی بھی اس اختیار کا استعمال نہیں کرسکتا۔ عبدالحمید نے 16 ڈسمبر سے طویل رخصت حاصل کرلی ہے جس کے بعد سے وقف بورڈ کی سرگرمیاں عملاً ٹھپ ہوگئیں۔ حکومت نے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہ نواز قاسم کو چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے عہدے کی اضافی ذمہ داری دیتے ہوئے 28 ڈسمبر کو احکامات جاری کئے لیکن شاہ نواز قاسم کو اس عہدے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے سرکاری احکامات کے باوجود ابھی تک عہدے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی عدم موجودگی کا راست اثر ملازمین کی تنخواہوں پر پڑا۔ جنوری کا آغاز ہوئے تین دن ہوگئے لیکن آج تک تنخواہیں جاری نہیں ہوسکیں۔ اس کے علاوہ درگاہوں کے عرس کے انتظامات کے لیے بھی فنڈس کی اجرائی موقوف ہوچکی ہے۔ وقف بورڈ سے اوقافی اداروں کو جاری کیا جانے والا فنڈس بھی سی ای او کی عدم موجودگی کے نتیجہ میں تعطل کا شکار ہے۔ روز مرہ کے کاموں کی عدم تکمیل کے نتیجہ میں عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور سے نمائندگی کرتے ہوئے متبادل انتظامات کی خواہش کی لیکن ابھی تک کسی عہدیدار کا تقرر نہیں کیا گیا۔ اگر تعطل اسی طرح برقرار رہا تو ملازمین کو تنخواہوں کے لیے مزید انتظار کرنا پڑے گا۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ ہر ماہ تنخواہ کی وصولی کے ساتھ ہی قرض کی اقساط ادا کرتے ہیں اور تنخواہ کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں وہ گھریلو اخراجات کے لیے مزید قرض حاصل کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔