وقف بورڈ کے چار نامزد ارکان کی اہلیت پر ہائی کورٹ میں درخواست

   

حیدرآباد۔6 ۔ اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ کے جسٹس اے راج شیکھر ریڈی نے وقف بورڈ کے چار نامزد ارکان کی اہلیت کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کی گئی درخواست کو سماعت کیلئے قبول کرلیا۔ درخواست گزار کے وکیل کے دلائل کی سماعت کے بعد جسٹس راج شیکھر ریڈی نے صدرنشین وقف بورڈ کی برقراری سے متعلق درخواست کے ساتھ اس معاملہ کی جمعرات کو سماعت کرنے کا فیصلہ کیا اور دونوں معاملات کو ایک ساتھ جوڑنے کی ہدایت دی۔ محمد یونس علی نامی شخص نے مفاد عامہ کی درخواست دائر کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ حکومت نے نامزد زمرہ کے تحت 4 ارکان کے تقرر کے سلسلہ میں وقف ایکٹ 1995 ء کی خلاف ورزی کی ہے۔ وقف ایکٹ کی دفعہ 14 میں جن امور کی صراحت کی گئی ان کی پابندی کئے بغیر چار ارکان کو نامزد کیا گیا ہے ۔ انہوں نے شکایت کی کہ صوفیہ بیگم ، ایم اے وحید اور ملک معتصم خاں کی نامزدگی قواعد کے برخلاف ہے اور انہیں جس زمرہ میں رکنیت دی گئی وہ اس زمرہ سے تعلق نہیں رکھتے۔ ان میں سے ایک رکن سرکاری ٹیچر ہے جبکہ دوسرے رکن اسلامی اسکالر کے زمرہ میں نہیں آتے۔ درخواست گزار نے کہا کہ آئی پی ایس عہدیدار تفسیر اقبال گزشتہ تین اجلاسوں سے غیر حاضر رہنے کے سبب ازروئے وقف قانون بورڈ کی رکنیت سے محروم ہوچکے ہیں۔ درخواست گزار کی وکیل ولادمیر خاتون نے عدالت کو بتایا کہ وقف ایکٹ کے تحت کم از کم دو خواتین کو شامل کیا جانا چاہئے لیکن حکومت نے صرف ایک خاتون کو شامل کیا اور سرکاری احکام میں صراحت نہیں کی گئی کہ انہیں کس زمرہ میں نامزد کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رکن پارلیمنٹ رکن اسمبلی اور بار کونسل زمرے کے ارکان کی نشستیں خالی ہیں کیونکہ تینوں ارکان کی میعاد ختم ہوچکی ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ بورڈ کی کارکردگی ٹھپ ہوچکی ہے ، لہذا موجودہ بورڈ کو تحلیل کرتے ہوئے نیا بورڈ تشکیل دیا جائے۔ جسٹس راج شیکھر ریڈی نے وقف بورڈ کے اسٹانڈنگ کونسل ایم اے مجیب سے وضاحت طلب کی اور کہا کہ اسی طرح کا ایک معاملہ عدالت میں زیر دوران ہے ، کیوں نہ دونوں معاملات کو یکجا کرتے ہوئے جمعرات کو سماعت کی جائے۔ اسٹانڈنگ کونسل نے معززجج کی تجویز سے اتفاق کیا۔