وقف بورڈ کے 4 زمرہ جات میں پرچہ جات نامزدگی کا ادخال مکمل

   

ارکان مقننہ 2، متولی و منیجنگ کمیٹی زمرہ میں 11 اور بار کونسل میں 4 پرچہ جات داخل
پرچہ جات کی آج جانچ ہوگی، صدرنشین اور نامزد ارکان کیلئے سرگرمیاں
حیدرآباد 17 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل جدید کے لئے 4 زمرہ جات کے تحت پرچہ جات نامزدگی کے ادخال کا مرحلہ آج مکمل ہوگیا۔ ارکان مقننہ زمرہ میں 2، بار کونسل زمرہ میں 4 اور متولی و منیجنگ کمیٹی زمرہ میں 11 پرچہ جات نامزدگی داخل کئے گئے۔ رکن پارلیمنٹ زمرہ میں ایک بھی پرچہ نامزدگی داخل نہیں ہوا۔ الیکشن آفیسر و ضلع کلکٹر حیدرآباد ایل شرمن نے پرچہ جات نامزدگی کے مرحلہ کی تکمیل کے بعد امیدواروں کی فہرست جاری کردی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رکن پارلیمنٹ زمرہ میں چونکہ تلنگانہ سے صرف ایک ہی مسلم رکن پارلیمنٹ ہیں لہذا حکومت کو پرچہ نامزدگی کے ادخال کے بغیر بحیثیت رکن مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ ارکان مقننہ زمرہ کی دو نشستوں کے لئے کوثر محی الدین رکن اسمبلی نے آج پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ اِس زمرہ میں ٹی آر ایس کے فاروق حسین رکن کونسل کل اپنا پرچہ نامزدگی داخل کرچکے ہیں۔ توقع ہے کہ دونوں کا متفقہ طور پر انتخاب عمل میں آئے گا۔ اِس مرتبہ متولی و منیجنگ کمیٹی اور بار کونسل زمرہ میں مقابلہ یقینی دکھائی دے رہا ہے۔ جملہ 11 متولیوں اور منیجنگ کمیٹیوں کے نمائندوں نے 2 نشستوں کے لئے پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ 2 نشستوں کے لئے دعویداروں میں مرزا انوار بیگ، فراست علی بخشی، منور حسین، مرزا شہریار بیگ، سید اکبر نظام الدین حسینی، مظفر علی صوفی، محمد خیرالحسن، مصیح الرحمن ذاکر، ظہیر احمد خان، عبدالمجید اور ابوالفتح سید بندگی بادشاہ قادری شامل ہیں۔ بار کونسل کی ایک نشست کے لئے 4 پرچہ جات نامزدگی داخل کئے گئے جن میں ایم اے کے مقیت نے 3 اور ذاکر حسین جاوید نے 1 پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ پرچہ جات نامزدگی کی جانچ کل 18 فروری صبح 10.30 بجے دفتر الیکشن آفیسر ضلع کلکٹر حیدرآباد میں کی جائے گی۔ نام واپس لینے کی آخری تاریخ 21 فروری سہ پہر 3 بجے ہے۔ جن زمرہ جات میں زائد پرچہ جات نامزدگی برقرار رہیں گے اُن کے لئے 28 فروری کو رائے دہی ہوگی اور اُسی دن نتیجہ کا اعلان کردیا جائے گا۔ متولی و منیجنگ کمیٹی زمرہ میں متفقہ انتخاب کے لئے مساعی جاری ہے تاہم اِس مرتبہ رائے دہی کے امکانات زیادہ پائے جاتے ہیں۔ 4 زمرہ جات کے تحت 6 ارکان کے انتخاب کے بعد حکومت 5 ارکان کو نامزد کرے گی۔ 11 ارکان میں سے صدرنشین کا انتخاب کیا جائے گا۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے صدرنشین کے لئے ابھی تک کسی نام کی منظوری نہیں دی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ حلیف جماعت سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدرنشین نامزد ارکان میں سے ہوسکتا ہے۔ صدرنشین اور نامزد ارکان کے لئے برسر اقتدار اور اُس کی حلیف جماعت میں زبردست سرگرمیاں دیکھی جارہی ہیں۔ واضح رہے کہ موجودہ بورڈ کی میعاد 22 فروری کو ختم ہوگی۔ ر