وقف ترمیمی بل: اسٹیک ہولڈر سے بات کرنا ضروری

   

نئی دہلی: انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر (آئی آئی سی سی) کے تاحیات رکن،اسلامک سنٹر کے مجلس عاملہ کے رکن کیلئے امیدوار اور معروف سماجی کارکن محمد ہدایت اللہ نے نئے وقف ترمیمی بل 2014کو وقت جائداد پر حکومت کے قبضہ کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ وقف قوانین میں کسی بھی ترمیم سے پہلے اسٹیک ہولڈر سے حکومت کو بات کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ جو ابھی وقف ایکٹ 2013ہے اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے اور حکومت کے زیر قبضہ ہزاروں ایکڑ زمین کو قبضہ سے خالی کرانے کی ضرورت ہے جو حکومت نہیں کر رہی ہے ، اس کے برعکس نئے وقف ترمیمی قوانین لاکر وقف کی زمین پر قبضہ کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایسی کسی بھی ترمیم کو نہ تو کانگریس اور نہ ہی مسلمان قبول کریں گے اور نہ ہی اس ناپاک کوشش کو کامیاب ہونے دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وقف کردہ جائدادیں مسلمانوں کی فلاح و بہود کے لئے ہیں، اس کا مالک صرف اللہ ہے کوئی انسان نہیں۔ اس میں کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ واقف کی منشا کے خلاف ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں نے جو وقف کیا ہے اورجس مقصدکے لئے وقف کیا ہے واقف کے منشاکے خلاف اس کو استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ دہلی کانگریس سوشل میڈیا سیل کے چیرمین ہدایت اللہ نے کہاکہ بی جے پی حکومت مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لئے مسلمانوں کے ذرائع و وسائل کو چھین لینا چاہتی ہے اور مختلف بہانوں سے وقف کی جائداد پر قبضہ کرنا چاہتی ہے ۔ دہلی میں لال مسجد کے پاس زمین پر قبضہ کی تازہ مثال ہے ۔ اسی طرح وقف کی 56قبرستانوں کا اتہ پتہ نہیں ہے ۔ اگر وہ سچ مچ مسلمانوں کا بھلا چاہتی ہے تو پہلے 123وقف جائدادیں مسلمانوں کے حوالے کردے اور دہلی میں جتنی وقف جائداد وں پر سرکار نے قبضہ کر رکھا ہے اسے خالی کردے ۔