بی جے پی اور اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کے درمیان گرما گرم بحث5اور6ستمبر کو پھر اجلاس
نئی دہلی: وقف (ترمیمی) بل پر جمعہ کو منعقدہ جے پی سی کا دوسرا اجلاس بھی کافی ہنگامہ خیز رہا اور بی جے پی اور اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ اجلاس کے دوران دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال کو جیل میں بند رکھنے سے افغانستان اور ’اکھنڈ بھارت‘ تک کا تذکرہ کیا گیا۔ حکومت کے رویے سے ناراض اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ اجلاس سے کچھ دیر کے لیے واک آؤٹ بھی کر گئے۔ وہیں، مسلم تنظیموں نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے اپنے مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔ جے پی سی کا آئندہ اجلاس 5 اور 6 ستمبر کو طلب کیا گیا ہے۔اجلاس کے دوران بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ نے اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ پر بے قابو ہو کر بارہا ٹوکنے اور بولنے نہیں دینے کا الزام عائد کیا جبکہ اپوزیشن کی جانب سے بی جے پی پر من مانی کرنے، جمہوری عمل کی خلاف ورزی کرنے اور اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ پر ذاتی تبصرے کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔اجلاس کے دوران بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ دلیپ سائکیا اور عآپ کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کے درمیان گرما گرم بحث بھی ہوئی۔ سائکیا اور سنگھ کے درمیان دہلی کی صورتحال، عآپ لیڈروں کی گرفتاری، لیفٹیننٹ گورنر کے کام اور بل میں کلکٹر کو دیئے گئے اختیارات پر طویل بحث ہوئی۔ صدر مجلس و رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے جے پی سی صدر جگدمبیکا پال کو بل کے خلاف ایک اور تحریری نوٹ دیا۔ اجلاس کے دروان اسد الدین اویسی اور ابھیجیت گنگوپادھیائے کے درمیان بھی گرما گرم بحث ہوئی۔ اجلاس میں ایک وقت ایسا آیا جب حکومت کے رویہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتیں اجلاس سے ہی واک آؤٹ کر گئیں۔ مسلم تنظیم کی جانب سے پیش ہونے والے ایک وکیل نے اس سے قبل جے پی سی میں بل کے حوالے سے اپنا موقف پیش کیا تھا لیکن جب انہوں نے دوسری بار بولنا شروع کیا تو انہیں یہ کہہ کر روک دیا گیا کہ وہ دوبارہ نہیں بول سکتے۔ اس کے خلاف اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کھڑے ہو گئے۔اسد الدین اویسی، اے راجا، عمران مسعود، محمد عبداللہ اور اروند ساونت سمیت حزب اختلاف کے بہت سے اراکین پارلیمنٹ نے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا حالانکہ وہ تھوڑی دیر بعد اجلاس میں واپس آ گئے۔جب ایک افسر اس بل کے فوائد شمار کر رہے تھے تو ان کے منہ سے غلطی سے ’آغاخانی‘ برادری کی بجائے لفظ ’افغانی‘ نکل گیا۔ وہ کہنا چاہتے تھے کہ اس بل سے مسلم سماج کے دیگر پسماندہ طبقات جیسے بوہرہ اور آغاخانی کو فائدہ پہنچے گا لیکن غلطی سے ان کے منہ سے یہ نکل گیا کہ اس بل سے افغانیوں کو فائدہ پہنچے گا جس پر اپوزیشن ارکان نے طنز کرتے ہوئے سوال کیا کہ یہ بل ہندوستان کے لیے ہے یا اکھنڈ بھارت کے لیے؟مسلم تنظیم کی جانب سے جے پی سی کی میٹنگ میں بلائی گئی آل انڈیا سنی جمعیت علماء نے بل کی مخالفت کی اور کہا کہ وہ وقف قوانین میں ترمیم کو قبول نہیں کرتے۔ وقف مسلمانوں کا معاملہ ہے اور حکومت کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔اسی دوران انڈین مسلم فار سیول رائٹس تنظیم نے بھی جے پی سی کے سامنے بل میں ترمیم کی مخالفت کی۔ تنظیم کے صدر سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے اس بل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کر رہی ہے۔