l متنازعہ بل کی منظور ی میں چندرا بابو نائیڈو اور نتیش کمار کا کلیدی رول
l اپوزیشن کی بھرپور مخالفت کے باوجود مودی حکومت کی عددی طاقت کام کرگئی
l وزیراعظم نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ، مجموعی طور پر 520 ارکان نے ووٹ ڈالا
l سنٹرل وقف کونسل اور وقف بورڈس میں دو غیر مسلم ارکان کی لازمی شمولیت!
l واقف کا کم از کم 5 سال تک اسلام پر عملی اعتبار سے کاربند رہنا ضروری
l کلکٹر کی جانب سے وقف املاک کی ملکیت طئے کی جائے گی
نئی دہلی: متنازعہ وقف (ترمیمی) بل 2025ء آخرکار مودی حکومت نے لوک سبھا میں آج دن اور رات میں 12 گھنٹے طویل گرما گرم مباحث اور پھر رات دیر گئے تک ارکان کی جانب سے رائے دہی کے بعد منظور کرالیا۔ تقریباً رات 2 بجے لوک سبھا میں اعلان کیا گیا کہ اس بل کے حق میں 288 اور اس کی مخالفت میں 232 ووٹ ڈالے گئے۔ یہ مجوزہ قانون سازی جسے آج ہی راجیہ سبھا میں پیش کردیا جائے گا، اس کا مقصد وقف املاک کے انتظام و انصرام والے 1995ء کے قانون میں ترمیم کرنا ہے۔ لیکن اس مرممہ بل کی متنازعہ دفعات میں سنٹرل وقف کونسل اور وقف بورڈس میں دو غیرمسلم ارکان کی لازمی شمولیت شامل ہے۔ اب یہ بھی شرط آگئی ہے کہ ایسے افراد جو کم از کم پانچ سال تک اسلام پر عملی اعتبار سے کاربند ہوں، صرف وہی وقف کیلئے املاک کا عطیہ دے سکتے ہیں۔ نیز مجوزہ قانون کے تحت حکومتی املاک جس کی شناخت وقف کے طور پر کی جارہی ہے، وہ اس کے حق میں نہیں ہوں گی اور متعلقہ کلکٹر کی جانب سے اس کی ملکیت طے کی جائے گی۔ گزشتہ سال اس بل کو پہلی مرتبہ ایوانِ زیریں میں پیش کیا گیا تھا۔ تاہم، کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن کی شدت سے مخالفت نے حکومت کو اسے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے رجوع کرنے پر مجبور کیا تھا۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال کی صدرنشینی میں جے پی سی نے اس بل کے حق میں رپورٹ تیار کی اور اسپیکر لوک سبھا کو پیش کی۔ چنانچہ جاریہ بجٹ سیشن میں آج صبح وزیر پارلیمانی و اقلیتی امور کرن رجیجو نے دوبارہ اس بل کو پیش کیا جس کے تعلق سے ہندوستان کے مسلمانوں میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ تاہم، موجودہ مودی حکومت کو جس کی لوک سبھا میں عددی طاقت صرف 240 ہے، آندھرا پردیش سے این چندرا بابو نائیڈو کی تلگودیشم اور بہار میں نتیش کمار کی جے ڈی (یو) جیسی کلیدی حلیف پارٹیوں کی تائید و حمایت حاصل ہوئی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج وزیراعظم مودی نے ایوان میں اس بل پر مباحث کے دوران یا بھر ووٹنگ کے دوران اپنی حاضری بھی ضروری نہیں سمجھی۔ اور ان کے بغیر وزیر داخلہ امیت شاہ کی قیادت میں این ڈی اے محاذ نے راہول گاندھی زیرقیادت اپوزیشن کے خلاف مورچہ سنبھالا۔ صبح جیسے ہی پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہوا، وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو نے وقف (ترمیمی) بل کو دوبارہ ایوان میں پیش کیا۔ اپوزیشن کی طرف سے کانگریس کے گورو گوگوئی نے مباحث کا آغاز کیا۔ ٹریژری اور اپوزیشن بنچوں کے درمیان زبردست تبادلے کا مرحلہ اس وقت طے ہوا جب اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے قانون سازی کے ترمیم شدہ ورژن کو منتقل کیا جس کا عنوان اب یونیفائیڈ وقف مینجمنٹ ایمپاورمنٹ، ایفیشنسی اینڈ ڈیولپمنٹ (UMEED) بل ہے۔ اپوزیشن، جس کی قیادت انڈیا بلاک کررہا ہے، اپنی مخالفت میں ثابت قدم رہی، اس نے قانون سازی کو شکست دینے کے لیے اپنے متحد عزم پر زور دیا۔ اصل میں پچھلے سال پیش کردہ اس بل کو ترمیم کے ساتھ واپس لانے سے پہلے نظرثانی کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیجا گیا تھا۔ رجیجو نے ترامیم کا دفاع کرتے ہوئے وقف املاک کے انتظام اور نگرانی کو بڑھانے کے لیے کلیدی دفعات کا خاکہ پیش کیا۔ یہ ترمیمی بل آخرکار لوک سبھا سے منظور ہونے سے پہلے اس پر بحث میں دونوں طرف سے اپنے اپنے دلائل شدت سے پیش کئے گئے۔ قبل ازیں اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترمیمات کو ندائی ووٹ کے ذریعہ مسترد کر دیا گیا۔یہ بل 12 گھنٹوں کے طویل مباحث کے بعد منظور کرلیا گیا۔ بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے اراکین نے اپنے موقف کا بھرپور دفاع کیا۔ این ڈی اے کی حلیف جماعتوں جنتا دل یو (جے ڈی یو) اور تلگودیشم پارٹی نے بھی اس بل کی حمایت میں حکومت کا ساتھ دیا جس سے اس بل کی منظوری میں حکومت کو مزید تقویت ملی۔ اپوزیشن نے مختلف وجوہات کی بناء پر اس بل کی مخالفت کی لیکن حکومت نے اس بل کو عوامی فلاح کے لیے ضروری قرار دیا۔ملک گیر سطح پر مسلمانوں کے شدید احتجاج اور اپوزیشن کے اعتراضات کے درمیان یہ بل آخر کار آدھی رات کے بعد منظور کرلیا گیا۔صدر مجلس اتحادالمسلمین اور حیدرآباد ایم پی اسد الدین اویسی نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے اپنا علامتی احتجاج اس طرح درج کرایا کہ انہوں نے بل کے کاغذ پھاڑ دیئے اور کہا کہ وہ اس معاملہ میں مہاتما گاندھی کے عمل کی تقلید کررہے ہیں جنہوں نے جنوبی آفر یقہ میں برطانوی قانون کی مخالفت میں اسی طرح اپنی ناراضگی اور احتجاج کا اظہار کیا تھا ۔