محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔ 3۔اپریل۔ ملک میں مسلمانوں کو حاشیہ لانے والے وقف قانون کی منظوری سے قبل ہندوستانی پارلیمنٹ بالخصوص لوک سبھا میں مسلمانوں کو ملنے والی غیر مسلم اراکین پارلیمان کی تائید نے یہ ثابت کردیا کہ ملک کے مسلمانوں کو ضرورت پڑنے پر آج بھی جمہوری اصولوں کے دائرہ میں رہتے ہوئے ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے والے افراد ایوانوں میں موجود ہیں۔ لوک سبھا میں 12 گھنٹے سے زائد وقف بل پر مباحث کے دوران جن جماعتوں نے اپنا موقف واضح کیا تھا وہ اپنی جگہ لیکن چھوٹی جماعتوں کے اراکین جو غیرمسلم ہیں انہوں نے بھی وقف جائیدادوں کے متعلق مسلمانوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہوکر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے مذہبی امور سے واقف ہیں۔ لوک سبھا میں مباحث کے دوران مسلم اراکین پارلیمان بیرسٹر اسدالدین اویسی ‘ جناب عمران مسعود ‘ جناب محمد جاوید ‘ جناب ای ٹی محمد بشیر ‘ انجینیئر رشید ‘ آغا روح اللہ مہدی ‘ یا کوئی اور اگر وقف معاملہ پر مسلمانوں کے موقف کا دفاع کرتے ہوئے تقریر کرتا تو کوئی بات نہیں لیکن جب اے راجہ ‘ اکھلیش یادو‘ گوروگوگوئی ‘ چندر شیکھر آزاد‘ ہنومان بینی وال‘ مہووا موئیترا‘ کنی موزہی کے علاوہ دیگر غیر مسلم ارکان اپنی جماعتوں کے موقف کے اعتبار سے مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہوئے ان کا امت مسلمہ کو احسان مند ہونا چاہئے کیونکہ حکومت کی جانب سے قوانین وقف کی ترمیم کیلئے بل کی تائید میں جس طرح کی چکنی چپڑی باتیں کی جار ہی تھیں ان باتوں کو کئی گوشوں نے قبول کرلیا اور حکومت کے موقف کا دفاع کرنے والی کالی بھیڑیں جو کہ مسلمانوں کے درمیان موجود ہیں نے بھی مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ایوان میں موجود غیر مسلم ارکان پارلیمان جنہوں نے وقف بل کی مخالفت کی اور کھل کر مسلمانوں کے موقف کی حمایت کرکے ملک کے موجودہ ماحول میں اقلیتوں کے ساتھ کھڑے ہوکر فرقہ واریت کو مسترد کیا ان لوگوں نے حقیقت میں مسلمانوں کے حقوق کی بات کی ہے۔آزاد ہندوستان کی تاریخ میں شائد ہی ایوان میں مسلمانوں کی تائید میں اراکین پارلیمان کی اتنی بڑی تعداد نے ان کے حق کی بات کہی ہے ۔ بابری مسجد کی شہادت کے معاملہ یا رام مندر کی تعمیر کے مسئلہ پر ارکان پارلیمان کی اتنی تعداد نے کھل کر مسلمانوں کے موقف کی حمایت نہیں کی تھی اور نہ طلاق ثلاثہ پر قانون سازی کے دوران مسلمانوں کو اس قدر غیر مسلم اراکین کی تائید ملی تھی جو تائید وقف ترمیمی بل پر مباحث کے دوران ملی ہے وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مسلمانوں کے بنیادی مسائل سے واقف سیکولر ذہن کے حامل غیر مسلم ارکان پارلیمان اب بھی ہندوستان کے سیکولر کردار کی برقراری کی جدوجہد میں ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔