ویب سائیٹsansad.in/ls/legislation/bills سے بل کا متن ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔ عوام و خواص سے توجہ کی اپیل
نئی دہلی : وقف ترمیمی بل 2024 پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کا اہم اجلاس ہوا۔ اس دوران کمیٹی نے بل پر عوام اور ماہرین سے تجاویز طلب کی ہیں۔ 22 اگست کو ہوئی جے پی سی کی پہلی میٹنگ میں یہ تجویز کیا گیا تھا کہ اس بل سے متعلق تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ جامع بحث کے لیے تجاویز کو مدعو کرنے کے لیے اخبارات میں ایک اشتہار دیا جانا چاہیے۔وقف ترمیمی بل جے پی سی کے صدر اور بی جے پی ایم پی جگدمبیکا پال، اے آئی ایم آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی، بی جے پی ایم پی اپراجیتا سارنگی، ٹی ایم سی ایم پی کلیان بنرجی اور بی جے پی ایم پی رادھا موہن داس وغیرہ نے جمعہ کو منعقدہ اہم میٹنگ میں حصہ لیا۔جگدمبیکا پال نے کہا، ہم نے پہلی میٹنگ میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر حکومت نے وقف ترمیم 2024 جے پی سی کو بھیجی ہے، تو ہم ملک میں جتنے بھی وقف بورڈز کو بلائیں گے، ہم ان کو بھی بلائیں گے جو ہمارے ہیں۔ اقلیتی تنظیمیں حکومت کا موقف ہے کہ بہتر بلاک ترمیمی بل آنا چاہیے۔ آل انڈیا سنی جمعیت العلماء آل انڈیا مسلم سول لبرٹیز کے سابق ایم پی دیپ صاحب کو بلایا گیا ہے اور یوپی اور راجستھان کے دو سنی وقف بورڈ کو بھی بلایا گیا ہے۔وقف (ترمیمی) بل 2024 کا متن لوک سبھا کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ کمیٹی کو پیش کی گئی یادداشتیں/تجاویز کمیٹی کے ریکارڈ کا حصہ ہوں گی اور انہیں خفیہ سمجھا جائے گا اور وہ کمیٹی کے مراعات سے لطف اندوز ہوں گے۔ جو لوگ میمورنڈم پیش کرنے کے علاوہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونا چاہتے ہیں ان سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ خصوصی طور پر اس کا تذکرہ کریں۔ تاہم اس حوالے سے کمیٹی کا فیصلہ حتمی ہو گا۔یہ بل بی جے پی کی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کی پہلی بڑی پہل ہے، جس کا مقصد ایک مرکزی پورٹل کے ذریعے وقف املاک کے رجسٹریشن کے عمل میں اصلاحات کرنا ہے، جس میں مسلم خواتین اور غیر مسلم نمائندوں کے لیے بھی شامل ہیں۔ اس میں نمائندگی کے ساتھ ریاستی وقف بورڈ کے ساتھ ایک مرکزی وقف کونسل کا قیام شامل ہے۔
لوک سبھا سکریٹریٹ ویب سائیٹ sansad.in/ls/legislation/bills پر کالم ’’بزنس‘‘ کے ذیلی کام لجسلیشن کے تحت بلس کے زمرہ سے وقف ترمیمی بل 2024 ء کا مکمل متن ملاخطہ کیا جاسکتا ہے ۔ یہ بل نمبر 109 ہے ۔
وقف ترمیمی بل پر جے پی سی سے نمائندگی اور اعتراضات کا موقع
15 دن تک نمائندگیاں کی جاسکتی ہیں۔ ای میل اور فیاکس سے بھی دلائل پیش کرنے کی سہولت
حیدرآباد۔30 ۔اگسٹ(سیاست نیوز) مرکزی حکومت کے مجوزہ وقف ترمیمی بل کے متعلق مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے رائے عامہ اور غیر سرکاری تنظیموں ‘ ماہرین اور اداروں سے رائے حاصل کرنے اعلامیہ جاری کیا ہے ۔ جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی سے جاری اعلامیہ میں آئندہ 15یوم میں اپنی رائے اور وقف ترمیمی بل کے متعلق اپنے اعتراضات و تجاویز روانہ کرسکتے ہیں۔حکومت کی جانب سے مجوزہ بل کی منظوری سے قبل مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو روانہ کرکے وسیع مشاورت اور عوامی رائے سے آگہی کا فیصلہ کیا ہے۔ جوائنٹ سیکریٹری سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت کے مجوزہ وقف ترمیمی بل پر تشکیل دی گئی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے صدرنشین مسٹر جگدمبیکا پال رکن پارلیمنٹ کی نگرانی میں کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھر میں ماہرین ‘ اداروں‘ غیر سرکاری تنظیموں ‘ شراکت داروں کے علاوہ دیگر سے یادداشتیں وصول کی جائیں ۔ تنظیموں ‘ اداروں ‘ غیر سرکاری تنظیموں کے علاوہ ماہرین و شراکت داروں کی جو عوامی نمائندگیاں وصول ہوں گی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی ان کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ تیار کرے گی۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ جو لوگ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ذمہ داروں کو اپنی نمائندگیاں روانہ کرنا چاہتے ہیں وہ انگریزی یا ہندی میں اپنی تحریری یادداشت و نمائندگی کے علاوہ تجاویز و رائے Joint Secretary(JM) Lok Sabha Secretriat, Room No.440, Parliament House, Annexe, New Delhi-110001 پر روانہ کرسکتے ہیں اس کے علاوہ کمیٹی کے ای۔ میل پتہ [email protected] پر اندرون 15 یوم روانہ کی جاسکتی ہیں۔ عوام کے علاوہ دیگر تنظیموں ‘ اداروں ‘ ماہرین سے ملنے والی تجاویز پر مزید تفصیلات فون نمبرات 011-23034440 اور 23035284 پر حاصل کی جاسکتی ہیں اس کے علاوہ نمائندگیاں روانہ کرنے کے خواہش مند فیکس نمبر011-230127709 پر بھی مکتوبات روانہ کرکے جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کو اپنی رائے پیش کرسکتے ہیں۔ اعلامیہ کے بعد ’وقف ترمیمی بل ‘ کے متعلق متفکر شہری اپنی مدلل رائے اور تجاویز کمیٹی کو روانہ کرسکتے ہیں لیکن کمیٹی کو روانہ کی جانے والی اس رائے میں پیش کی جانے والی تجاویز دلائل کے ساتھ ہونی چاہئے ۔ ملک بھر میں وقف ترمیمی بل پر مختلف گوشوں سے اعتراضات کئے جا رہے ہیں اور ان اعتراضات پر اپنے دلائل پیش کرنے کے علاوہ کمیٹی کو اگر تجاویز روانہ کرنے کے اقدامات کئے جا تے ہیں تو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو وقف ترمیمی بل کی منظوری میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ مرکزی حکومت کے مجوزہ وقف ترمیمی بل کا مشاہدہ پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر موجود بلوں کے سیکشن میں کیا جاسکتا ہے۔3