وقف ترمیمی قانون مسلمانوں کیساتھ کھلواڑ: امجداللہ خاں خالد

   

چندرابابو اور کے سی آر دور حکومت میں کئی وقف جائیدادوں کی تباہی، گول میز کانفرنس سے مختلف شخصیتوں کا خطاب

حیدرآباد ۔ 20 اپریل (سیاست نیوز) کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا( گریٹر حیدرآباد)کی جانب سے سوماجی گوڑہ پریس کلب میں وقف ترمیمی قانون 2025کے خلاف ایک گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان مجلس بچائو تحریک امجد اللہ خان نے تلنگانہ میں وقف جائیدادوں کے ساتھ ہونے والے کھلواڑ کی تفصیلات پیش کی اورکہاکہ وقف جائیدادوں کی حفاظت اور بازیابی سے تلنگانہ کے مسلمانوں کے حالات میںسدھار لایاجاسکتا ہے۔سی پی آئی قومی عاملہ کے رکن وسابق ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی‘ سی پی آئی گریٹر حیدرآباد سکریٹری ای ٹی نرسمہا‘ ریاستی صدر تنظیم انصاف منیر پٹیل‘ سی پی ائی ریاستی عاملہ کے رکن وینکٹ پرساد‘ وی ایس بوس‘ محمد سلیم خان‘ اے آئی ٹی یو سی سٹی سکریٹری محمد یوسف‘ صدر تنظیم انصاف گریٹر حیدرآباد ‘ شیخ شمس الدین ‘ ممتاز ایڈوکیٹ افسر جہاں ‘ شمشاد قادری اور دیگرنے بھی خطاب کرتے ہوئے وقف ترمیمی قانون 2025کی سخت الفاظ میںمذمت کی ۔ امجد اللہ خان نے اپنے سلسلے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے وقف ترمیمی قانون اور اس طرح کے دیگر قوانین کے پس پردہ مرکزی حکومت کی منشاء کو منظرعام پر لانے کاکام کیا ۔ انہوں نے چندرابابو نائیڈو سے لے کر کے چندرشیکھر رائو ( بی آر ایس)کے دور حکومت تک وقف جائیدادوں کے ساتھ ہونے والے کھلواڑ کی تفصیلات بھی پیش کیں۔ انہوں نے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد درگاہ حسین شاہ ولیؒ اور عیدگاہ گٹلہ بیگم پیٹ کی وقف اراضی کے ساتھ ہونے والی قانون کی زیادتیوں کی تفصیلا ت سے بھی واقف کروایا۔ انہوں نے وقف ترمیمی قانون کے خلاف ہر محاذ پر کھل کر ساتھ دینے او راحتجاج کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ ای ٹی نرسمہا نییقین دلایا کہ و قف ترمیمی قانون 2025کو واپس لینے تک سی پی آئی گریٹر حیدرآباد اپنی جدوجہد کو جاری رکھے گی ۔ای ٹی نرسمہا نے بی جے پی پر مذاہب اور ذات پات کے درمیان نفرت پھیلانے کا الزام لگایا۔انہوں نے امبانی اور اڈانی پر مرکز پر میں بی جے پی کے باگ ڈور سنبھالنے کا بھی الزام عائد کیا۔انہوں نے نئے وقف ترمیمی قانون کے تحت سینکڑوں سال پرانی مساجد‘ قبرستان ‘ درگاہوں او رخانقاہوں پر مرکزی حکومت کے قبضے کا خدشہ بھی ظاہر کیا۔ شرکاء نے چندرا ٓبابو نائیڈو اور نتیش کمار کو مسلمانوں کا غدار قراردیا او رکہاکہ دونوں نے مسلمانوں کے پیٹھ میںخنجر گھونپا ہے۔