مدینہ ایجوکیشن سنٹر میں دی وقف پروٹیکشن فیوچر چیالنجس اینڈ روڈ میاپ پر اجلاس ، رکن پارلیمنٹ عمران مسعود کا خطاب
حیدرآباد۔ 16 ۔ اپریل۔(سیاست نیوز) سمندر میں طوفان ہے ‘ چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر طوفان کا مقابلہ نہیںکیاجاسکتا ہے ‘ طوفان سے نبردآزما ہونے کے لئے بڑی کشتی میںسوار ہونے کا وقت آگیا ہے ۔مسلم پرسنل لاء بورڈ کے زیر اہتمام ’’ دی وقف پروٹکشن فیوچر چیالنجس اینڈ روڈ میاپ‘‘ کے عنوان پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کے دوران کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ مدینہ ایجوکیشن سنٹر کے نہرو آڈیٹوریم میں منعقدہ اس اجلاس کی صدرات مولانا خالد سیف اللہ الرحمانی صدر کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کی جبکہ تلنگانہ وقف بورڈ چیرمن سید عظمت اللہ حسینی‘ مولانا منیر الدین مختار‘ مولانا عمر شفیق‘ مولانا وحید رحمانی چشتی‘ رحیم اللہ خان نیازی اور ماریہ عارف الدین نے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے وقف ترمیمی قانون 2025کی سخت الفاظ میںمذمت کی ۔ چیرمن ٹی ایم آر آئی ای ایس جناب فہیم قریشی کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے او رمولانا عمر عابدین نے اجلاس کی کاروائی چلائی ۔جناب عمران مسعود نے اپنی تقریر کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے کہاکہ آج بی جے پی کی حکومت پسماندہ مسلمانوں کی دہائی دے رہی ہے ۔ پسماندہ مسلمانوں ‘ خواتین او ر بچوں کی بات کررہی ہے مگر پورے بل میں ایک جگہ بھی لفظ پسماندہ مسلمان ‘ غریب مسلم خواتین اور غریب مسلمان بچوں کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔اس بل کے ذریعہ حکومت ہماری اوقافی املاک کو نشانہ بنارہی ہے ۔ اترپردیش میں مدرسوں کا رجسٹریشن بند کردیاگیا ہے ۔ یہ وہی مدرسے ہیں جہاں پردولت مندوں کے بچے نہیں بلکہ غریب مسلمانوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے تھے ۔ کانگریس حکومت کے اقتدار میںآنے کے ایک گھنٹے کے اندر اس طرح کے تمام قوانین کو سرے سے ختم کردیاجائیگا۔ ہم مسلسل کوشش کررہے ہیں پارلیمنٹ کے اندر او رباہر ہم جدوجہد کررہے ہیں ۔ اترپردیش میںعلی گڑ ھ مسلم یونیورسٹی کو نشانہ بنایاجارہا ہے ۔ مذکورہ یونیورسٹی کے تحت آنے والے دو ادارے بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ محض اس لئے ہورہا ہے کہ اس کو قائم کرنے والے سرسید احمد خان تھے اور اس یونیورسٹی کے نام کے ساتھ مسلم جوڑا ہوا ہے۔ عمران مسعود نے نوجوانوں کی بے حسی اور لاپرواہی پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بغیر امیر کے کسی بھی قسم کی تحریک کبھی کامیاب نہیںہوسکتی ہے ۔ قیادت کے انتخاب میں لاپرواہی برتی جارہی ہے ۔ نوجوان سڑکوں پر اگر کسی امیر کے بغیر اتریں گے تو حکومت اور پولیس کو انہیں نشانہ بنانے میں آسانی ہوگی ۔ انہوںنے کہاکہ اترپردیش میںایسا ہورہا ہے ۔ اترپردیش کی پولیس کونوجوانوں کے سینوں پر گولی چلاتے ہوئے ذرا برابر بھی تکلیف ہے نہ پشیمانی محسوس ہورہی ہے۔ عمران مسعود نے کہاکہ وقف بائی یوزر کو ختم کرتے ہوئے سرمایہ داروں کے زیرقبضہ وقف جائیدادوں کو سرمایہ داروں کے ہی حوالے کرنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر عوام کو دھوکہ دینے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہاکہ اسی حکومت نے 2021میں جو اعداد وشمار وقف املاک کے پیش کئے تھے ‘ انہیںاب بدل دیاگیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ امید نامی ویب سائیڈ پر وقف جائیدادوں کے اندراج کی جو ذمہ داری جس کمپنی کو دی گئی تھی ‘ اُس نے ایک ہی جائیداد کے چار تکڑے کردئیے ۔ انہوںنے سخت لہجے میںکہاکہ امبانی کی جو جائیداد ممبئی میں یتیم خانہ کی وقف جائیداد پر کھڑی ہے اس کو بچانے اور مسلمانوں کی قیمتی اوقافی اراضیات کو ہڑپنے کے لئے بنائے گئے جامع منصوبے کے تحت وقف ترمیمی قانون نافذ کیاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ اگر مساجد بند ہوجائیں گی تو مسلمان نماز کہاں پڑیگا‘ اگر قبرستان مقفل کردئے جائیںگے تو ہم اپنی میتوں کو کہاں دفنائیں گے ۔