وقف جائیدادوں کے اسکینڈلس کی سی بی سی آئی ڈی تحقیقات ناکافی

   

ماضی کی دھاندلیوں کی تحقیقات کیلئے ہائی کورٹ کو مکتوب ارسال کرنے کا مطالبہ: مجید اللہ خان فرحت
حیدرآباد۔/8 اکٹوبر، ( پریس نوٹ ) صدر مجلس بچاؤ تحریک جناب مجید اللہ خان فرحت نے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کی جانب سے وقف جائیداد کے اسکینڈلس کی سی بی سی آئی ڈی کی جانب سے تحقیقات کے اعلان کو ناکافی قرار دیا جبکہ سنٹرل وقف بورڈ نے کئی بار حکومت تلنگانہ سے تلنگانہ میں ہونے والی لوٹ کے خلاف سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کیا اور یہ اظہر من الشمس ہے کہ تلنگانہ وقف اراضیات کا اسکینڈل جو آج 5 سے 7 لاکھ کروڑ روپئے کی دھاندلیاں ہیں اتنے بڑے اسکینڈل کا سی بی سی آئی ڈی تحقیق کرنے جاری ہے وہ مقامی مافیا اور زیر اثر لوگوں سے مکمل طور پر متاثر رہے گی جس کا کوئی اثر نہیں نکلے گا۔ یہ صرف مسلمانوں کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ جناب مجید اللہ خاں فرحت نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر تلنگانہ کے مسلمانوں سے انصاف کے خواہاں ہیں تو سب سے پہلے وہ وقف کی جائیدادوں پر وائیٹ پیپر ایوان اسمبلی میں پیش کریں تاکہ یہ پتہ چلے کہ نظام اسٹیٹ کے انضمام کے بعد آندھرا پردیش اسٹیٹ میں کتنے لاکھ ایکر اور کتنے اثاثہ جات تھے۔ تلنگانہ کا قیام عمل میں آنے کے بعد کتنے تلنگانہ کے حصہ میں آئے اور حکومت خود یہ اصرار کررہی ہے کہ آج 74 فیصد اوقافی جائیدادیں قابضین کے قبضہ میں ہیں اور کئی ریکارڈس کو وقف بورڈ کی جانب سے مسمار کردیا گیا۔ گذشتہ 70 سال سے کانگریس کی حکومت ہو یا تلگودیشم کی حکومت ہو برسراقتدار شخصیتوں کا وقف جائیدادیں نشانہ رہے جس کو لوٹا گیا اور اتنے بڑے اسکینڈل کا سی بی سی آئی ڈی کی جانب سے تحقیقات ناکافی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کے سی آر حکومت اس تعلق سے ماضی میں ہونے والی کانگریس اور تلگودیشم کے دور حکومت میں ہونے والی دھاندلیاں لاکھوں کروڑوں کی لوٹ کو بے نقاب کرنے تلنگانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو مکتوب روانہ کریں۔ اس کے لئے خصوصی اعلیٰ عہدیداروں، ریوینو ، پولیس اور وقف بورڈ کے عہدیداروں کی ایک طاقتور کمیٹی بناتے ہوئے تمام 74 فیصد جائیدادوں کو وقف کے حوالے کرنے کا اعلان کریں یہی انصاف کا تقاضہ عین کے مطابق ہے۔ جناب مجید اللہ خاں نے کہا کہ عرصہ دراز بالخصوص مرحوم بانی مجلس بچاؤ تحریک محمد امان اللہ خان نے وقف بورڈ کمشنریٹ بنانے اور جوڈیشیل پاور دینے کا مطالبہ کرتے رہے اور تحریک آج بھی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وقف بورڈ کے داخلی انتشار اور اسکینڈلس کے خاتمہ کیلئے وقف کمشنریٹ کا فوری اعلان کرے۔