وقف جائیدادوں کے مسئلہ پر ارکان اسمبلی کے ساتھ عنقریب اجلاس

   

اسمبلی میں وزیر اقلیتی بہبود کا تیقن، جوڈیشیل پاورس پر قانونی رائے کا حصول

حیدرآباد: وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے مسئلہ پر ارکان اسمبلی کیساتھ عنقریب اجلاس طلب کرنے کا تیقن دیا اور کہا کہ حکومت اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں سنجیدہ ہے۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران مجلسی ارکان کے سوال پر وزیر اقلیتی بہبود نے بتایا کہ ریاست میں 33929 اوقافی اداروں کے تحت 77538 ایکر اراضی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس سیکولر حکومت ہے اور وہ تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے وقف سروے رپورٹ کے مطابق 1992 تا 2002 جائیدادوں کے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کئے گئے ۔ حکومت نے 2001 ء میں دوسرے وقف سروے کی ہدایت دی ۔ وقف سروے کمشنر نے 2016 ء میں اپنی رپورٹ پیش کردی ۔ وقف بورڈ کو رپورٹ کی جانچ کی ہدایت دی گئی تھی جس پر بورڈ کی جانب سے رپورٹ میں کئی اعتراضات درج کئے گئے ۔ وقف سروے کمشنر اعتراضات کی یکسوئی کرتے ہوئے دوبارہ رپورٹ دیں گے۔ جائیدادوں کی ریکارڈ کے مطابق جانچ کا کام جاری ہے۔ وقف گزٹ میں ایک مرتبہ شامل جائیداد کے موقف کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا، لہذا احتیاط کے ساتھ جانچ کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع کلکٹرس کی نگرانی میں وقف پروٹیکشن کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ مرکزی حکومت کے تعاون سے وقف ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنے کے پراجکٹ پر کام جاری ہے۔ لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں کسی قدر تاخیر ہوئی ہے، باقی جائیدادوں کی جانچ کا کام جلد مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کو جوڈیشیل پاورس کے سلسلہ میں چیف منسٹر سے نمائندگی کی جائے گی اورمحکمہ قانون کی رائے حاصل کر نے کے بعد فیصلہ کرے گی۔ اکبر اویسی نے جوڈیشیل پاور سے متعلق چیف منسٹر کے وعدہ پر عمل آوری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کروڑہا روپئے مالیت کی اوقافی جائیدادیں تباہ ہورہی ہے ۔