وقف ریکارڈ کو ریونیو ریکارڈ سے مربوط کرتے ہوئے جائیدادوں کا تحفظ

,

   

قبرستانوں میں مفت تدفین، درگاہوں میں زائرین کیلئے سہولتیں، محمد سلیم کی پریس کانفرنس
حیدرآباد: صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ ریاست بھر میں اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کے غیر قانونی رجسٹریشن کو روکنے کے لئے وقف ریکارڈ کو ریونیو ریکارڈ سے مربوط کیا جارہا ہے۔ تمام ضلع کلکٹرس کو وقف ریکارڈ روانہ کیا گیا تاکہ ہر ضلع کے رجسٹریشن دفاتر سے رجوع کرتے ہوئے اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کیا جاسکے۔ تلنگانہ وقف بورڈ کا اجلاس حج ہاؤز میں محمد سلیم کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ارکان مولانا سید شاہ اکبر نظام الدین حسینی ، مرزا انوار بیگ ، ذاکر حسین جاوید ، صوفیہ بیگم ، عبدالوحید ، نثار حسین حیدر آغا، ملک معتصم خاں کے علاوہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد قاسم نے شرکت کی۔ 77 ایجنڈہ امور پر مباحث اور فیصلے کئے گئے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد سلیم نے بتایا کہ 23 کمیٹیوں کی منظوری دی گئی جو مساجد اور قبرستانوںکی ہے۔ 6 متولیوں کا تقرر کیا گیا اور 4 مساجد اور قبرستانوں کی تعمیر کی اجازت دی گئی ۔ اوقافی آمدنی میں اضافہ کے لئے وقف جائیدادوں کی ترقی کے منصوبہ پر ارکان سے رائے حاصل کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ کے تمام اہم درگاہوں میں زائرین کو بہتر سہولتوں کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت ٹائلٹس اور وضو خانے تعمیر کئے جائیں گے ۔ درگاہ حضرت جہانگیر پیراںؒ ، درگاہ حضرت جان پاک شہیدؒ اور درگاہ حضرت یعقوب شہید ورنگل میں ٹائلٹس اور باتھ رومس کی تعمیر کا کام بہت جلد شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ درگاہوں میں زائرین سے جبراً رقم وصول کرنے پر وقف بورڈ کنٹراکٹرس کے خلاف پولیس میں مقدمات درج کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی درگاہ میں چادر گل کی پیشکشی اور فاتحہ کے موقع پر جبراً رقم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ نظام آباد کی بڑا پہاڑ درگاہ میں جبری وصولی سے متعلق کئی شکایات ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کنٹراکٹرس کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے جی او 15 جاری کیا ہے جس کے تحت اوقافی اراضیات کا رجسٹریشن نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ سابق میں کئے گئے غیر قانونی رجسٹریشن منسوخ کرانے کے لئے کارروائی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہی مسجد باغ عامہ کی ترقی کے لئے حکومت سے اجازت طلب کی گئی۔ رمضان المبارک سے قبل ترقیاتی کاموں کی تکمیل کا منصوبہ ہے۔ محمد سلیم نے بتایا کہ قبرستانوں میں تدفین کے لئے رقومات طلب کرنے والے متولیوں اور کمیٹیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی علاقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو تدفین کیلئے جگہ فراہم کی جانی چاہئے ۔ مساجد اور قبرستانوں کو صاف ستھرا رکھا جائے۔ مختلف امراض میں مبتلا غریبوں کو وقف بورڈ کی جانب سے امداد فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئمہ اور مؤذنین کو ماہانہ اعزازیہ کے سلسلہ میں بعض کمیٹیوں کی جانب سے رکاوٹ پیدا کی جارہی ہے۔ اعزازیہ آئمہ اور مؤذنین کا حق ہے ، لہذا کسی کو رکاوٹ نہیں بننا چاہئے ۔ حکومت تقریباً 10,000 آئمہ اور مؤذنین کو باقاعدگی کے ساتھ اعزازیہ جاری کر رہی ہے۔