آر ایس ایس و ہندوتوا نظریات کو فروغ دینے والے میگزین آرگنائزر میں آرٹیکل کی اشاعت سے توثیق
حیدرآباد۔ 6۔اپریل(سیاست نیوز) ملک میں وقف قوانین میں ترمیم کے بعد اب عیسائیوں کی مذہبی جائیدادوں کو نشانہ بنانے کی تیاری کی جانے لگی ہے اور آر ایس ایس و ہندو توا نظریات کو فروغ دینے والے میگزین آرگنائزر میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں اس بات کی توثیق کی جاچکی ہے کہ وقف قوانین میں ترمیم کے ذریعہ مسلمانوں کی جائیدادوں کے حصول کے بعد حکومت کا اگلا نشانہ ملک بھر میں موجود عیسائی کلیساؤں اور ٹرسٹوں کی جائیدادیں ہوں گی۔ آرگنائزر کے آن لائن ایڈیشن میں شائع کئے جانے اس مضمون کے متعلق سوشل میڈیا پر بحث شروع ہونے کے ساتھ ہی آرگنائزر نے اس مضمون کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا ہے لیکن اس مضمون کا اسکرین شاٹ کئی لوگوں نے محفوظ کرلیا ہے۔ آر ایس ایس کے ترجمان نے ہندستانی پارلیمنٹ میں وقف قوانین میں ترامیم کے لئے پیش کئے گئے بل کی منظوری کے ساتھ ہی ایک نئی بحث چھیڑتے ہوئے ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا ہندستان میں وقف جائیدادیں زیادہ ہیں یا کیتھولک گرجا گھروں کی ملکیت میں زیادہ جائیدادیں ہیں جو کہ مختلف ٹرسٹوں کے نام پر محفوظ ہیں۔ آر ایس ایس کے ترجمان میں شائع ہونے والے اس مضمون سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہندوتوا طاقتیں صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے نہیں بلکہ ملک کی تمام اقلیتوں کے پاس موجود جائیدادوں کو نشانہ بنانے کے لئے کوشاں ہیں اور ان خدشات کا اظہار ایوان پارلیمنٹ میں مباحث کے دوران متعدد مرتبہ کئی اراکین پارلیمان نے کیا تھا اور یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ مرکزی حکومت وقف قوانین میں ترامیم کے بعد دیگر اقلیتی طبقات کی جائیدادوں کو بھی نشانہ بنانے کے اقدامات کرے گی اور ان جائیدادوں کو نشانہ بنائے جانے کے لئے وقف قوانین کو مثال کے طور پر پیش کیا جائے گا۔حکومت کی جانب سے وقف ترامیم کے سلسلہ میں مسودہ کی اجرائی کے ساتھ ہی ’روزنامہ سیاست‘ نے ان خدشات کا اظہار کرتے ہوئے وقف بل کے خلاف شروع کی جانے والی مہم میں ملک کے دیگر اقلیتوں کو بھی شامل کرتے ہوئے ان کے ساتھ متحدہ طور پر جدوجہد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے عیسائی طبقات کے ساتھ ساتھ سکھ طبقہ کو بھی ساتھ لینے کی ضرورت پر زور دیا تھا اور اب یہ بات درست ثابت ہورہی ہے کہ مرکزی حکومت وقف قوانین میں ترامیم کے بعد خاموش رہنے والی نہیں ہے بلکہ مرکز جلد ہی عیسائیوں کی جائیدادوں کو جو کہ کلیساؤں اور ٹرسٹوں سے منسلک ہیں ان کو نشانہ بنایا جائے گا اور اس کے بعد خدشہ ہے کہ گردوارہ پربندھک کمیٹیوں کو بھی مرکزی حکومت کی جانب سے نشانہ بناتے ہوئے ان کمیٹیوں میں بھی غیر سکھ افراد کو شامل کرنے کے لئے قانون سازی کی جائے گی۔3