بورڈ کے ایک رکن کی صدارت پر نظر،وقف ایکٹ کے مطابق عہدہ پر ہوں: محمد سلیم
حیدرآباد۔23 ۔ جولائی (سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ اوقافی اراضیات پر ناجائز قبضوں میں رکاوٹ محسوس کرتے ہوئے لینڈ گرابرس انہیں عہدہ سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کی مرضی سے اس عہدہ پر فائز ہیں اور وہ لینڈ گرابرس کو اوقافی جائیدادوں پر قبضہ اور فروخت کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد سلیم نے واضح کیا کہ ہائی کورٹ میں کل ان کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں ہے بلکہ عدالت نے جوابی حلفنامہ داخل کرنے کیلئے 10 دن کا وقت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کے بعض ارکان بھی لینڈ گرابرس کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ جن کے نام وہ مناسب وقت پر ظاہر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خالص خدمت کے جذبہ کے تحت کام کر رہے ہیں اور وہ وقف بورڈ سے ایک پیسہ بھی حاصل نہیں کرتے ۔ عہدہ کی فکر ایسے افراد کو ہوتی ہے جنہیں وقف بورڈ سے آمدنی ہو۔ وہ تنخواہ ، ٹی اے ، ڈی اے توکجا وقف بورڈ کی چائے بھی نہیں پیتے۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادیں اللہ کی جائیدادوں ہوتی ہیں، جن کا تحفظ ہر کسی کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ چندرا بابو نائیڈو دور حکومت میں بھی صدرنشین کی حیثیت سے خدمت انجام دے چکا ہے۔ کے سی آر نے مجھے تجربے اور دیانتداری کی بنیاد پر وقف بورڈ کا صدرنشین مقرر کیا۔ محمد سلیم نے کہا کہ وہ اللہ کو حاضر و ناظر جان کر خدمات انجام دے رہے ہیں اور وہ کسی سے خوفزدہ نہیں ہوں گے ۔ لینڈ گرابرس نے انہیں دھمکانے کی کوشش کی اور جب یہ ممکن نہیں ہوا تو وہ عدالت سے رجوع ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ وقف ایکٹ کے سیکشن 15 کے تحت وہ عہدہ پر برقرار ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں محمد سلیم نے کہا کہ اگر ان کی برقراری غیر قانونی ہے تو پھر چیف منسٹر اور حکومت میں شامل اعلیٰ عہدیدار کیا قانون سے واقف نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ اگر وہ غیر قانونی طور پر برقرار رہتے تو ایک دن میں ہٹادیا جاتا۔ محمد سلیم نے کہا کہ بورڈ کے ایک رکن شہر میں 50 ایکر اراضی پر قابض ہیں اور باؤنڈری وال تعمیر کرچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس رکن کی نظر وقف بورڈ کی صدارت پر ہے تاکہ اس قبضہ کو جائز کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ لینڈ مافیا اور یہ رکن انہیں جائیدادوں پر قبضہ کی راہ میں رکاوٹ محسوس کر رہے ہیں۔ محمد سلیم نے کہا کہ وہ تاحیات اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے کریں گے۔ حکومت سے میرے خلاف کئی جھوٹی شکایات کی گئیں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ لہذا وہ عدالت سے رجوع ہوئے ہیں۔
