وقف مقدمات کی موثر پیروی کے لیے اسٹینڈنگ کونسلس کی تعداد میں اضافہ

   

لا آفیسرس کے زائد تقررات، صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کا اقدام
حیدرآباد۔ 27 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں اور اراضیات سے متعلق مقدمات کی موثر پیروی اور عاجلانہ یکسوئی کے لیے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے لیگل ڈپارٹمنٹ کو مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہائی کورٹ میں اسٹانڈنگ کونسلس کی تعداد میں اضافے کے علاوہ لیگل آفیسرس کے تقررات کا عمل شروع کیا گیا۔ تحت کی عدالتوں سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ تک تقریباً 2500 سے زائد وقف مقدمات برسہا برس سے زیرالتوا ہیں۔ اسٹانڈنگ کونسلس کی کمی اور وقف بورڈ کے لیگل ڈپارٹمنٹ میں لا آفیسرس کے عدم تقررات کے نتیجہ میں مقدمات کی یکسوئی میں تاخیر ہورہی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ وقف بورڈ سے مقدمات کے کائونٹرس بروقت تیار نہیں کئے جاتے جس کے نتیجہ میں غیر مجاز قابضین کے حق میں عدالت کے فیصلے ہورہے ہیں۔ ہائی کورٹ میں فی الوقت صرف دو اسٹانڈنگ کونسلس ہیں صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے دو نئے اسٹانڈنگ کونسلس کا تقرر کیا ہے۔ موجودہ وکلاء فرحان اعظم اور صفی اللہ بیگ کے علاوہ ابو اکرم اور نذیر احمد خاں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ وقف ٹربیونل میں فاروق صلاح الدین، نعمت اللہ اور آصف امجد وقف بورڈ کے وکلاء کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وکلاء سے بہتر تال میل کے لیے وقف بورڈ کا لیگل ڈپارٹمنٹ مستحکم ہونا ضروری ہے۔ مقدمات کے لیے درکار مٹیریل کی فراہمی اور کائونٹر کی تیاری لیگل آفیسر کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ بورڈ میں دو لیگل آفیسرس ہیں جو ریٹائرڈ ایم آر اوز ہیں۔ مقدمات کی یکسوئی میں تاخیر اور کائونٹرس کی تیاری میں دشواریوں کو دیکھتے ہوئے محمد سلیم نے مزید تین تا پانچ لیگل آفیسرس کے تقرر کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں درخواستیں طلب کرتے ہوئے انٹرویوز لیئے گئے۔ امید کی جارہی ہے کہ بہت جلد وقف بورڈ کا لیگل ڈپارٹمنٹ مقدمات کی موثر پیروی کے قابل ہوجائیگا۔