گلبرگہ میں تاریخی عمارتوں کی زبوں حالی پر اظہارِ افسوس ، وقف کے موضوع پر سمینار ، ڈاکٹر مقصود افضل و دیگر کا خطاب
گلبرگہ،29اکتوبر: گلبرگہ کے نامور قانون دان ڈاکٹر مقصود افضل جاگیردار کا کہنا ہے کہ وقف کے تعلق سے سمینارس کے انعقاد کا عین مقصد وکلاء برادری کو موجودہ وقف قوانین اور آزادی سے قبل اور ما بعد آزادی وقف قوانین کی تاریخ سے واقف کرانا ہے۔ اس کیلئے وہ مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت جب کہ وقف قوانین میں ترمیم لانے کی کوشش کر رہی ہے، ایسے وقت میں وکلاء برادری کو وقف قوانین کے بارے میں ضروری جانکاری رکھنا ضروری ہے۔ انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کے ایوان بندہ نواز میں وقف کے موضوع پر دوسرے سمینار سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے معروف قانون داں نے کہا کہ انگریزوں کے دور سے ہی وقف کے مسائل رہے ہیں اور اس کو حل کرنے کیلئے وقفے وقفے سے برٹش حکومت بھی قوانین بناتے رہی ہے۔ آزادی کے بعد بھی1954میں وقف کے تعلق سے نئے قانون بنائے گئے۔ پھر میں اس میں تقاضوں کے مطابق1995اور2013 میں ترامیم ہوتے رہے۔ جس کا عین مقصد بھی وقف املاک کا تحفظ کرنا تھا۔ افضل خان میمورئیل ٹرسٹ افضلپور کی جانب سے ’’ A Comparision Of Grants, Religious Endowmwnts And Waqf Role Of British Govt, Waqf Baords And Judiciary ‘‘کے عنوان سے یہ سمینار منعقد کیا گیا تھا۔ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایڈو کیٹ جاگیردار نے آزادی سے قبل بنائے گئے وقف قوانین پر تفصیلی روشنی ڈالی۔انھوں نے بتایا کہ 1913 میں مسلمان وقف والیڈیٹنگ ایکٹ لایا گیا۔ اسکی روشنی میں وقف بورڈس تشکیل دئے گئے، بعد ازاں اوقافی جائیدادوں کو ریگولیٹ کرنے کیلئے1923میں مسلمان وقف ایکٹ لایا گیا۔ جس کی روشنی میں اوقافی جائیدادوں کا حساب کتاب بھی رکھا جانے لگا۔ ریلجئیس انڈو منٹس پر بھی ایڈو کیٹ جاگیردار نے خطاب کیا۔ انھوں نے بتایا کہ سرپور میں پڑے کل بسونا نام کی ایک مندر ہے۔ اس کے اندر ایک مزار ہے۔ مزار کی عمارت کا حصہ بھی مسلم طرز تعمیر کا ہے۔ وضاحت طلب کرنے پر مندروں کے ذمہ دار خاموش ہیں۔ مسلم عمارتوں کے غیرمسلموں کے قبضے میں جانے کے معاملے پر مسلمانوں میں پائی جانے والی بے حسی پر انھوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ اپنے خطاب میں انھوں نے بتایا کہ افضلپور کے نام کی تبدیلی کے مجوزہ منصوبے کے خلاف بھی وہ عدالت میں مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ بیجاپور اور گلبرگہ کے ناموں کی تبدیلی کے خلاف وہ سپریم کورٹ تک گئے تھے لیکن انھیں وہاں مایوسی ملی۔ایڈو کیٹ عبد المقتدر نے بھی اس سمینار سے خطاب کیا۔ انھوں نے آزادی سے قبل برٹش حکومت کی جانب سے وقف میں مداخلت اور وقف قوانین آزادی سے قبل اور مابعد آزادی و تاحال کے موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انھوں نے بتایا کہ وقف پر سب سے پہلا حملہ وقف علی الاولاد پر کیا گیا تھا۔ جس کو بچانے کیلئے علامہ شبلی نعمانی نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ جگہ جگہ پر انھوں نے کانفرنسوں کا انعقاد کیا تھا، مقالات لکھے تھے۔ جس کے بعد وقف علی الاولاد کا قانون اب بھی باقی ہے۔ ایڈو کیٹ مقتدر نے کہا کہ ماضی میں وقف میں حکومت کی مداخلت کے خلاف علامہ شبلی نعمانی نے جس طرح سے تحریک چلائی تھی،اسی کے نہج پر آج ملک کے مسلمانوں کو تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ وقف کے تعلق سے مسائل ہر دور میں آتے رہے ہیں تاہم یہ سوال ہے کہ اس وقت کی لیڈرشپ اس مسئلے کو کس طرح سے ڈیل کرتی ہے۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ آرٹسٹ ایاز الدین پٹیل نے بھی اس سمینار سے خطاب کیا۔ گلبرگہ کی تاریخ اور غیر محفوظ تاریخی عمارتوں پر انھوں نے کامیاب لکچر دیا۔ انھوں نے کہا کہ مسلم نقطہ نظر سے گلبرگہ کو کئی ایک طرح سے اہمیت حاصل ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گلبرگہ کے قلعہ حشام میں دنیا کی سب سے بڑی توپ ہے۔ جسے بارہ گزی توپ کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا میں سب سے بڑی صوفی گنبد حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کی ہے۔ اس کے علاوہ غیر مستند تاریخ کے مطابق اردو کا پہلا نثر نگار فیروز شاہ بہمنی تھا۔ اپنے خطاب میں ایاز الدین پٹیل نے بتایا کہ تاریخ کی کسی بھی کتاب میں گلبرگہ کو کلبرگی نہیں کہا گیا ہے۔ گلبرگہ کے کسی بھی سکے پر بھی کہیں بھی کلبرگی نہیں لکھا گیا ہے۔ قلعہ حشام کی تاریخ کے تعلق سے بھی ایاز الدین پٹیل نے روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ غیر ضروری طور پر ایک خیالی راجہ کلی چند کو پیدا کرکے قلعہ حشام کی تعمیر کا سہرا اُس کے سر پر باندھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جب کہ تاریخ کی کتابوں میں راجہ کلی چند کے نام سے کہیں پر بھی کوئی حکمران نہیں گزرا ہے۔ بین الاقوامی آرٹسٹ نے گلبرگہ میں موجودہ کئی ایک تاریخی عمارتوں کی زبوں حالی پر افسوس کا اظہار کیا اور اس کیلئے مسلمانوں کو ہی ذمہ دار قرار دیا۔ انھوں نے بتایا کہ مسلم محلوں میں آج کئی ایک تاریخی گنبد وں پر قبضہ ہو رہا ہے۔ انھوں نے نور باغ کے گنبدوں کی جانب توجہ دلائی۔ اس موقع پر ایاز الدین پٹیل کو افضل خان میمورئیل ٹرسٹ کی جانب سے افضل سیوا ایوارڈ بھی پیش کرکے ان کی تہنیت کی گئی۔ اس سمینار کا آغاز ایڈو کیٹ حافظ عبدالصمد کی قرات کلام پاک سے ہوا۔ نوجوان وکیل اشفاق صدیقی نے کامیاب نظامت کی۔ سمینار میں وکلاء برادری کے علاوہ سماجی کارکنان اور امور وقف سے جڑے احباب نے شرکت کی۔