بندوں پر مشکلات و مصائب منجانب اللہ ہیں جو دائمی نہیں ہوتے
مسلمانوں کو صبر و استقلال اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین
میدان عرفات کی مسجد نمرہ میں شیخ عبداللہ المنیع کا خطبۂ حج
ریاض:عازمینِ حج نے میدان عرفات پہنچ کر وقوف کیا جہاں انہوں نے بڑی عقیدت سے حج کا خطبہ سنا۔ جمعرات کو میدان عرفات کی مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے شیخ عبداللہ المنیع نے کہا کہ ’اللہ کا شکر اد اکرتے ہیں جس نے انسانوں کو نعمتیں بخشیں۔ وہ ہم پر کوئی مصیبتیں نازل کرتا ہے تو اس کی اپنی حکمتیں ہیں‘۔ شیخ عبداللہ المنیع نے کہا کہ بحیثیت مسلمان ہم پر لازم ہے کہ مصیبت سے بچنے کے لئے ہر طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کریں جو ہم کر سکتے ہیں۔ شریعت ہمیں تعلیم دیتی ہے کہ ہم ہر طرح کی معاشی اور مالی مشکلات کا مقابلہ کریں اور پوری کوشش کریں کہ ان پر قابو پائیں۔ اسی لئے اسلامی شریعت نے تعلیم دی ہے کہ ہم ہر طرح کا کاروبار کریں۔ معاشی سرگرمیوں میں حصہ لیں جس سے ہم اپنی غربت پر قابو پا سکیں۔ انہوں نے خطبے میں کہا کہ شریعت کی تعلیمات میں یہ بات شامل ہے کہ ہم وعدے پورے کریں۔ ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ صدقہ وخیرات سے کام لیں تاکہ اگر کوئی مشکلات ہم ہر نازل ہوں تو مل کر اس کا مقابلہ کرسکیں۔شیخ عبداللہ المنیع نے کہا کہ اللہ نے یہ بھی حکم دیا کہ ہم ناپ تول میں انصاف سے کام لیں اور کسی قسم کی کمی بیشی نہ کریں۔ صلہ رحمی سے کام لیں تاکہ معاشرے میں ہم آہنگی اور محبت کا ماحول پیدا ہو سکے۔ خطبہ حج میں کہا گیا کہ پیغمبرِ اسلام نے حکم دیا کہ اگر آپ کسی مرض کا شکار ہیں تو دوا کریں۔ کسی وبا یا طاعون کا کسی علاقے میں سنیں تو لازم ہے کہ آپ اس علاقے میں نہ جائیں۔ اگر اس علاقے میں موجود ہیں تو آپ کو چاہئے کہ اس علاقے میں رہیں تاکہ یہ وبا نہ پھیل سکے۔ شیخ عبداللہ المنیع نے کہا کہ نبوی تعلیمات کی روشنی میں لازم ہے کہ ہم ہر طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ حکومت سعودی عرب نے حج کے بارے میں جو احکامات دیئے ہیں وہ انہی تعلیمات پر مشتمل ہیں۔ حکومت نے یہ پابندی لگائی کہ ملک میں موجود مسلمانوں کو حج کی ادائیگی کی اجازت دی جائے اور باہر سے آنے والوں کو روک دیا جائے تاکہ انسانیت اور حجاج کی صحت کی حفاظت کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ شریعت کے مقاصد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان کی جان کی حفاظت کی جائے۔
ہم اس موقع پرعالم اسلام کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے ہمارے ساتھ تعاون کیا اور ان تمام اقدامات کو سراہا اور ہمارا ساتھ دیا۔ شیخ عبداللہ المنیع نے مسلمانوں کو تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کی۔ تقویٰ سے یہ بھی مراد ہے کہ ہم گناہوں سے بچیں اور اللہ کے تمام احکامات پر عمل کریں۔’انہوں نے خطبے میں کہا کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ تم اسی رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے آنے والے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور جو اللہ کے سوا کسی کی عبادت کرتا ہے یا شرک کرتا ہے تو وہ بس خسارے میں ہے۔ شیخ عبداللہ المنیع نے صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ صبر کرتے ہیں انہیں اللہ کی طرف سے بہترین اجر ملے گا۔ مومن وہ ہے جو اس بات پر یقین کامل رکھتا ہے جو مصیبت نازل کی جاتی ہے وہ اس کی قسمت میں اللہ نے لکھ دی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ اللہ جو کوئی مصیبت بندوں پر نازل کرتا ہے اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بندے اللہ کی طرف رجوع کریں اور توبہ کریں۔ یہ تمام مشکلات اور مصیبتیں بندوں کوآخرت کی یاد دلاتی ہیں اور انہیں اس بات پر راضی کرتی ہیں کہ وہ آخرت کی تیاری کریں۔اُنھوں نے کہاکہ مسلمانو! آپ کو چاہیے کہ اللہ سے خلوص نیت سے دعا کریں تاکہ آپ اپنے گھروں کو امن و امان کے ساتھ لوٹ سکیں۔ اپنے لیے اور مسلمانوں کے لیے دعا کریں کہ اللہ اس وبا کو ہم پرسے اٹھا لے اور ہر طرح کے امراض سے ہمیں محفوظ رکھے۔ اللہ اپنے بندوں پر اپنی نعمتیں نازل کرے۔ ہماری زمین پر امن نافذ کردے۔ حجاج کے قافلے غروب آفتاب کے بعد میدان عرفات سے مزدلفہ کیلئے روانہ ہوئے جہاں مغرب اور عشاء کی نماز ایک اذاں اور دو تکبیر کے ساتھ ادا کی گئیں جہاں وہ رمی کیلئے کنکریاں چنیں گے اور رات قیام کے بعد جمعہ 10 ذی الحجہ کو منیٰ پہونچ کر رمی جمار کریں گے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں مقیم غیرملکی تارکینِ وطن کی تعداد 70 فیصد ہے اور 30 فیصد سعودی شہری ہیں۔واضح رہے کہ اس مرتبہ صرف 10 ہزار عازمین کرام حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر رہے ہیں جن میں ہندستان کے عازمین بھی شامل ہیں۔
