وندے ماترم تنازعہ، فرقہ پرستوں کا ایجنڈہ

   

Ferty9 Clinic

رام پنیانی
ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں تمام مذاہب ذات پات، تمام نسلوں اور مختلف زبانوں کے بولنے والے مرد و خواتین نے حصہ لیا اور ان کا مقصد صرف اور صرف انگریزوں کے تسلط سے اپنے ملک کو آزادی دلانا تھا لیکن افسوس صد افسوس کہ ایک ایسے وقت جبکہ تمام مذاہب کے لوگ متحدہ طور پر ہندوستان کی آزادی کے لئے لڑرہے تھے۔ مسلم لیگ نے مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل پاکستان کا مطالبہ کیا اور دوسری طرف ہندو مہا سبھا اور آر ایس ایس نے ہندو راشٹر کا آئیڈیا پیش کرتے ہوئے اس آئیڈیا کو آگے بڑھایا۔ جہاں تک موجودہ حالات کا سوال ہے ان حالات پر بلاشک و شبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی نے شناخت پر مبنی مسائل کا سہارا لے کر معاشرہ کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنا اپنا وطیرہ بنالیا ہے اور وہ اس طرح بڑی ہشیاری بلکہ مکاری کے ساتھ انتخابی فوائد حاصل کرتی جارہی ہے۔ مثال کے طور پر رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد تنازعہ سے لے کر گائے کے تحفظ، خود ساختہ لو جہاد اور دوسرے گھڑے گئے جہاد کو اپنے سیاسی آلہ کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ (اس ضمن میں ہم لو جہاد کے ساتھ ساتھ لینڈ جہاد، یو پی ایس سی جہاد، جنس جہاد، تھوک جہاد وغیرہ کی مثال دے سکتے ہیں) اس طرح کے جہاد گھڑ کر اس کا پورا پورا سیاسی فائدہ اُٹھایا گیا۔ اب اس میں قومی گیت وندے ماترم بھی شامل کردیا گیا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ وندے ماترم کی 150 ویں سالگرہ (7 نومبر 2025 کو وندے ماترم کے 150 سال مکمل ہوگئے) کے موقع پر بی جے پی نے اسے ایک بہت بڑا مسئلہ بنادیا حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ آپ کو بتادیں کہ برطانوی انتظامیہ میں ڈپٹی کلکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے بنکم چندر چٹرجی نے یہ گیت لکھا تھا اور پھر اس پر ماضی میں جو تنازعہ پیدا ہوا حکمراں بی جے پی نے اس تنازعہ کا احیاء کیا۔ اس بارے میں وزیراعظم نریندر مودی نے الزام عائد کیاکہ کانگریس نے پنڈت جواہر لال نہرو کی قیادت میں مسلم لیگ کے دباؤ میں آکر اس گیت کے دوسرے اشعار کو حذف کرکے اسے مختصر کردیا اور مسلمانوں کو خوش کرنے کی اُسی پالیسی کے نتیجہ میں ملک کی تقسیم عمل میں آئی۔ وزیراعظم نریندر مودی کے اس بیان کی ہندوتوا رائٹ ونگ کے دوسرے لیڈروں نے بھی تائید و حمایت کی اور ایسا کرتے ہوئے اس مسئلہ کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے مرکز توجہ بنادیا گیا اور اسے ایک ایسا مسئلہ بنادیا گیا جیسے ہندوستان اور ہندوستانی عوام کے لئے یہی سب سے بڑا مسئلہ ہو حالانکہ ہمارے ملک کو شدید غربت، بیروزگاری، آسمان کو چھوتی مہنگائی، فرقہ پرستی، بیماریوں، خواتین پر جنسی حملوں غرض بے شمار سلگتے مسائل کا سامنا ہے۔ ان سنگین مسائل پر تو کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ ہاں وندے ماترم کو ایک تنازعہ میں تبدیل کرکے اس کا سیاسی فائدہ اُٹھانے کی پوری پوری کوشش کی جاتی ہے اور اس طرح کی روش اختیار کرتے ہوئے حکومت کی جو ناکامیاں ہیں اُن پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے جبکہ حکومت کا یہ فریضہ ہوتا ہے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنائے، ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے، ملک کو معاشی طور پر مستحکم بنائے۔ واضح رہے کہ وندے ماترم 1870ء کے دہے میں لکھا گیا تھا اور ابتداء میں اس کی اشاعت بھی عمل میں نہیں لائی گئی۔ بعدازاں اس گیت میں مزید بند شامل کئے گئے اور پھر اسے بنکم چندر چٹرجی کی ناول آنند مٹھ میں شامل کیا گیا۔ بنکم چندر چٹرجی کے مذکورہ ناول میں یہ تصور بھی ملتا ہے کہ مساجد کی جگہ مندر قائم کئے جائیں اور یہ ناول ایک ظالم مسلم حکمراں کی معزولی اور برطانوی حکمرانی کی بحالی پر اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔ دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ اس پس منظر کے باوجود وندے ماترم سامراجی طاقتوں کے خلاف ایک طاقتور نعرہ میں تبدیل ہوگیا اور یہ نعرہ انگریزوں کے خلاف متعدد تحریکوں میں ایک پرجوش اور ولولہ انگیز آواز بن کر اُبھرا۔ سال 1905ء میں مذہبی بنیادوں پر بنگال کی تقسیم کے دوران ہونے والے عوامی احتجاجی مظاہروں میں وندے ماترم ایک طاقتور نعرہ ثابت ہوا اور بنگالی نعرہ ’’آمار سونار بنگلہ‘‘ کے ساتھ احتجاجی مظاہروں کے لازمی نعروں کا حصہ بن گیا اور پھر گزرتے وقت کے ساتھ وندے ماترم گیت ملک بھر میں شہرت اختیار کرگیا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ریاستی اسمبلیوں اور اسکولوں میں بھی گایا جانے لگا۔ زیادہ تر ریاستی اسمبلیوں میں کانگریس کی حکمرانی تھی۔ پنڈت نہرو نے اس دور کی مشہور و معروف اور قابل احترام ادبی شخصیت رابندر ناتھ ٹیگور سے اس بارے میں رائے طلب کی اور مشورہ لیا جس پر رابندر ناتھ ٹیگور نے مشاہدہ کیاکہ وندے ماترم گیت کے ابتدائی دو بند جو وطن عزیز کی تعریف کرتے ہیں، سب کے لئے قابل قبول ہیں جبکہ مابقی بند ہندو مذہبی علامتوں سے بھرپور ہیں اس لئے انھیں حذف کیا جاسکتا ہے۔ اس مسئلہ پر کانگریس ورکنگ کمیٹی (CWC) نے تفصیلی غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ یہ دونوں بند کسی بھی لحاظ سے قابل اعتراض نہیں حتیٰ کہ ان لوگوں کے نقطہ نظر سے بھی نہیں جنھوں نے اعتراضات اُٹھائے ہیں اور یہی گیت کا اصل جوہر ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ جہاں کہیں بھی قومی اجتماعات میں وندے ماترم گایا جائے صرف یہی دو بند گائے جائیں جبکہ رابندر ناتھ ٹیگور کی تیار کردہ دھن اور ترتیب پر عمل کیا جائے۔ کمیٹی کو یقین ہے کہ یہ فیصلہ شکایات کی تمام وجوہات کو ختم کردے گا اور اسے ملک کی تمام برادریوں کی رضاکارانہ قبولیت حاصل ہوگی۔
دستور ساز اسمبلی اور قومی اتفاق رائے : دستور ساز اسمبلی کی قومی ترانہ کمیٹی نے جس میں سردار ولبھ بھائی پٹیل اور کے ایم منشی جیسے قائدین شامل تھے، تین ترانوں پر غور کیا جس میں شاعر مشرق علامہ اقبال کا لکھا ہوا ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘، بنکم چندر چٹرجی کا لکھا وندے ماترم اور رابندر ناتھ ٹیگور کا تحریر کردہ جنا گنا منا شامل تھے۔ اس میں سے علامہ اقبال کے نغمہ یا ترانہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا کو خارج کردیا گیا کیوں کہ اُس وقت تک اقبال پاکستان کے ایک کٹر و مضبوط حامی کے طور پر سامنے آچکے تھے۔ بہرحال قانون ساز اسمبلی نے قومی گیت کے طور پر وندے ماترم کے دو بند یا Stanza کو اپنایا اور جنا گنا منا کو قومی ترانہ کے طور پر قبول کیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس مسئلہ نے سیاسی توجہ حاصل کیوں کی اور وہ بھی ایسے وقت جبکہ ملک کو بہ یک وقت کئی ایک مسائل کا سامنا ہے جن میں غربت، بیروزگاری، آلودگی اور صحت عامہ اور تعلیم کے معیارات میں مسلسل گراوٹ آرہی ہے۔ اگر حالات پر غور کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دراصل ایک گہرے فرقہ وارانہ ایجنڈہ کا حصہ ہے۔ جب 1930ء میں محمد علی جناح نے یہ مسئلہ اٹھایا، پنڈت نہرو نے پرزور انداز میں کہا تھا کہ یہ دراصل فرقہ پرستوں کی کارستانی ہے۔