نئی دہلی، 9 نومبر (یو این آئی) وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ’’وندے ماترم‘‘پر دیے گئے بیان پر کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہیکہ مودی نے 1937کی کانگریس ورکنگ کمیٹی اور گرو دیو رابندرناتھ ٹیگور کی توہین کی ہے ۔ وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ 1937 میں وندے ماترم کے اہم اشعار کو چھوڑ دیا گیا تھا، جس سے ملک کی تقسیم کے بیج بوئے گئے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایسی”تقسیم پرست ذہنیت” آج بھی ملک کے لیے ایک چیلنج ہے ۔ کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے اتوار کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ وزیراعظم کا کانگریس ورکنگ کمیٹی اور گرو دیو ٹیگور کی توہین کرنا حیران کن ضرور ہے ، مگر تعجب خیز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے مہاتما گاندھی کی قیادت والی آزادی کی تحریک میں کوئی کردار ادا نہیں کیا تھا۔ جے رام رمیش نے یاد دلایا کہ 26اکتوبر سے یکم نومبر 1937تک کولکاتہ میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ ہوئی تھی، جس میں مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو، سردار پٹیل، سبھاش چندر بوس، راجندر پرساد، مولانا آزاداور کئی ممتاز رہنما شامل ہوئے تھے ۔جے رام رمیش نے مزید کہا کہ وزیراعظم کو موجودہ سیاسی اور معاشی مسائل جیسے بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مہنگائی، معاشی عدم مساوات اور کم ہوتی ہوئی سرمایہ کاری پر توجہ دینی چاہیے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں نے ملک میں عدم مساوات کو بڑھایا ہے ، بے روزگاری اپنی انتہا پر ہے ، سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑ چکی ہے اور وزیر اعظم صرف ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو بدنام کرنے میں مصروف ہیں۔
