وندے ماترم کا لزوم، بچوں کو اسکولوں سے نکالنے کا مشورہ

   

Ferty9 Clinic

ممبئی، 10 نومبر (آئی اے این ایس) اتر پردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے ریاست کی تمام تعلیمی اداروں میں وندے ماترم کو لازمی کرنے کے اعلان کے بعد سیاسی اور مذہبی حلقوں میں شدید تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ جمیعت علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے اس فیصلے پر سخت ردِعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اپنے بچوں کو ایسے اسکولوں سے نکال لیں جہاں وندے ماترم گانے پر مجبورکیا جائے۔ گورکھپور میں ’ایکتا یاترا‘ اور وندے ماترم کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا، قومی گیت وندے ماترم کے لیے احترام کا جذبہ ہونا ضروری ہے۔ ہم اسے اتر پردیش کے ہر اسکول اور تعلیمی ادارے میں لازمی کریں گے تاکہ بھارت ماتا اور مادرِ وطن کے لیے عقیدت اور احترام پیدا ہو۔ یہ فیصلہ قوم پرستی اور اتحاد کو فروغ دینے کے لیے ہے، مگر مسلم طبقے کے ایک حصے نے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔ فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے مولانا حلیم اللہ قاسمی نے آئی اے این ایس کو بتایا ہم مسلمان ہیں۔ اس ملک کا آئین ہمیں مذہبی آزادی دیتا ہے۔ اگرہمارے دین کے خلاف کوئی چیزمسلط کی جائے تو آئین بھی اسے قبول نہیں کرتا۔ اس لیے ہم ایسی کسی چیزکو قبول نہیں کریں گے جو ہمارے مذہب کے خلاف ہو۔ انہوں نے مزید کہا ہمارا مذہب سکھاتا ہے کہ صرف ایک اللہ ہے، ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ اگر کوئی ہم سے اس کے خلاف کچھ کروانا چاہتا ہے تو یہ ہمارے ایمان کے خلاف ہے۔