وندے ماترم گانا حکومتی سرکولر میں لازم نہیں ، سپریم کورٹ کا موقف

,

   

نئی دہلی : /25 مارچ (ایجنسیز)سپریم کور ٹ نے قومی گیت وندے ماترم گانے کے بارے میں مرکزی حکومت کے سرکولر کے جواز کو چیلنج کرنے والی پٹیشن کو سماعت کیلئے قبول کرنے سے چہارشنبہ کو انکار کردیا اور وضاحت کی کہ اس سرکولر میں وندے ماترم گانے کی بات بالکلیہ مشورہ کے طور پر کہی گئی ہے اور اس معاملہ میں ان کے خلاف کوئی تعزیری اقدامات کی گنجائش نہیں جو اسے گانا نہیں چاہتے ہیں ۔ چیف جسٹس سوریا کانت ، جسٹس جے باگچی اور جسٹس بی پنچولی پر مشتمل بنچ نے اس عرضی کو غیرضروری قرار دیتے ہوئے خارج کردیا اور نشاندہی کی کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ وندے ماترم گانے کی حکومتی اڈوائزری کی آڑ میں کسی بھی فرد یا ادارہ کو اس کیلئے مجبور کیا جارہا ہے ۔ درخواست گزار محمد سعید نوری جو ایک تعلیمی ادارہ چلاتے ہیں ، ان کی پیروی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڈے نے دلیل پیش کرنا چاہی کہ /28 جنوری کا سرکولر اگرچہ اڈوائزری کے زمرہ میں آتا ہے لیکن اسے عملی طور پر لازمی ہدایت یا حکم کے طور پر باور کرایا جارہا ہے ۔ لیکن بنچ نے ہیگڈے کے موقف سے اتفاق نہیں کیا ۔ جسٹس باگچی نے کہا کہ کچھ بھی لازمی نہیں ہے ۔ یہ سرکولر اڈوائزری نوعیت کا ہے ۔ چیف جسٹس نے بھی کہا کہ یہ سرکولر مشورہ کی نوعیت کا ہی ہے ۔ جسٹس باگچی نے کہا کہ جب بھی کوئی ہدایت لازمی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ تعزیری اقدامات کی صراحت ہوتی ہے ۔ لہذا یہاں اس سرکولر میں وندے ماترم نہ گانے کی صورت میں کسی بھی قسم کی تعزیری اقدام یا سزاء کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ ہیگڈے نے اصرار کیا کہ اگرچہ قانونی پکڑ نہیں ہے لیکن سرکولر کو برقرار رکھا جائے تو کسی بھی فرد یا ادارہ پر بڑا دباؤ رہے گا ۔ تاہم عدالتی بنچ نے اس بات سے بھی اتفاق نہیں کیا اور سرکولر کے فقرہ 5 کی نشاندہی کی جس میں وندے ماترم گانا اڈوائزی نوعیت کی بات ہے ۔