ونپرتی میں ڈاکٹرس کا احتجاجی مظاہرہ

   

این ایم سی بل کی مخالفت، کارپوریٹ کالجوں کو فروغ دینے حکومت پرا لزام
ونپرتی۔/31 جولائی ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں نیشنل میڈیکل کمیشن بل پیش کرنے پر اس کی مخالفت میں مستقر ونپرتی کے تمام ڈاکٹروں نے احتجاج کیا۔ اس موقع پر مستقر ونپرتی کے تمام ڈاکٹروں نے دواخانوں کو بند رکھا ۔ گورنمنٹ ہاسپٹل میں صرف ایمرجنسی کیسوں کو دیکھا گیا۔ اس موقع پر منعقدہ احتجاجی اجلاس سے ڈاکٹر رمیش بابو نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ این ایم سی بل کے ذریعہ مرکزی حکومت غریب طلبہ کو ڈاکٹری کورسیس سے دوررکھنا چاہتی ہے۔ کارپوریٹ کالجوں کے فروغ کیلئے مرکزی حکومت یہ بل لارہی ہے۔ اگر یہ بل پر عمل آوری شروع ہوجائے تو غریب اور متوسط طبقہ کے طلبہ کا ڈاکٹر بننے کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دیہاتوں میں طبی سہولیات فراہم نہ ہونے کی اصل وجہ حکومتیں ہیں۔ ڈاکٹرس اپنے فرائض انجام دینے کیلئے تیار ہیں۔ لیکن حکومت وہاں پر مکمل سہولیات فراہم نہ کرنے سے ڈاکٹروں کاوہاں جانا دشوار ہورہا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر پربھات نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کا رپوریٹ کالجوں کو ترقی دینے کیلئے یہ بل لائی ہے۔ اس بل سے غریب و متوسط طبقہ کے طلباء کا ڈاکٹری تعلیم حاصل کرنا دشوار ہے۔ اس بل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا جارہا ہے۔ اس بل کا مقصد آنے والی نسل کو طبی تعلیم سے دور رکھنا ہے۔ اس موقع پر انڈین میڈیکل اسوسی ایشن ونپرتی کے صدر ڈاکٹر للیتا کماری، ڈاکٹر پروین، ڈاکٹر رگھویندر، ڈاکٹر سریشن، ڈاکٹر راگھولو کے علاوہ دیگر موجود تھے۔