پارلیمنٹ کے جاریہ اجلاس میں بل پیش کرنے کا امکان ، لوک سبھا اور اسمبلی کے ساتھ بلدی چنائو کا بھی منصوبہ
نئی دہلی : مرکزی کابینہ نے 12 دسمبر کو ایک ملک، ایک انتخاب کی سفارش کو منظوری دے دی، اس کے بعد حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کے جاری سرمائی اجلاس میں اس پر بل لانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ قبل ازیں حکومت نے ستمبر میں لوک سبھا، ریاستی اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں کیلئے مرحلہ وار انتخابات کے بیک وقت انعقاد کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سفارشات کو قبول کر لیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا کہ بیک وقت لوک سبھا اور ریاستی انتخابات کی طرف ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے مرکزی کابینہ نے جمعرات کو ون نیشن ون الیکشن بل کو منظوری دے دی۔ یہ بل پارلیمنٹ کے جاری سرمائی اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ بیک وقت انتخابات کا انعقاد بی جے پی کے اپنے لوک سبھا انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں میں سے ایک تھا۔ یہ پیشرفت حکومت کی جانب سے سابق صدر رام ناتھ کووند کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سفارشات کو قبول کرنے کے چند ہفتوں بعد ہوئی ہے۔ پینل نے تجویز دی ہے کہ لوک سبھا، ریاستی اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں کیلئے مرحلہ وار انتخابات ایک ساتھ کرائے جائیں۔ سابق صدر رام ناتھ کووند نے کہا ہے کہ ون نیشن، ون الیکشن کے ذریعہ ہندوستان کی جی ڈی پی 1 سے 1.5 فیصد تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ سابق صدر اور او این او ای کمیٹی کے چیئرمین نے ’ایک ملک، ایک انتخابات‘ کیلئے مضبوط پچ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ جاریہ ہفتہ کے شروع میں کانپور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، کووند نے کہا کہ مرکزی حکومت کو او این او ای کے نفاذ کیلئے اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ ملک میں ریاستی اسمبلیوں اور لوک سبھا کے بیک وقت انتخابات کرانے کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ مسئلہ قوم کے مفاد میں ہے۔ ون نیشن ون الیکشن بل، لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات کیلئے متعارف کیا جائے گا، پارلیمنٹ کے جاری سرمائی اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ ون نیشن ون الیکشن بل پر بہت تنازعہ ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ یہ ہندوستانی وفاق کے بنیادی خدوخال کے مغائر ہے۔ 1951ء سے کبھی ملک میں لوک سبھا اور اسمبلیوں کے انتخابات بہ یک وقت نہیں کرائے گئے اور نہ کبھی اس کی گنجائش پیدا ہوئی۔ یہاں تو پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات کے ساتھ بلدیاتی چناؤ بھی بہ یک وقت منعقد کرانے کی بات ہورہی ہے۔ حکومت نے اپوزیشن کو مسلسل الجھانے کا سامان کرلیا ہے۔