ون نیشن ۔ ون الیکشن کی تجویز جمہوری اور وفاقی ڈھانچہ کیلئے مضر

,

   

مرکز کی آمرانہ روش۔ آمریت کے خلاف جمہوریت کو بچانا ضروری ۔ ممتابنرجی ‘ ایم کے اسٹالن و کجریوال کا رد عمل

نئی دہلی : اپوزیشن جماعتوں نے مرکزی حکومت کی ون نیشن ۔ ون الیکشن تجویز پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ در اصل ملک میں دستور کے بنیادی ڈھانچہ کو تباہ کرنے کی کوشش ہے ۔ ترنمول کانگریس نے اسے وفاقیت کے مغائر اقدام قرار دیا اور کہا کہ آمرانہ طور پر فیصلہ کرتے ہوئے ملک کے جمہوری اور وفاقی ڈھانچہ کو نقصان پہونچایا جا رہا ہے ۔ چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی نے کہا کہ ان کی پارٹی کے ارکان اسمبلی اس انتہائی خطرناک قانون کی شدت کے ستاھ مخالفت کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بنگال دہلی کے آمرانہ احکام کے آگے جھکے گا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی آمریت سے جمہوریت کو بچانے کی ہے ۔ ممتابنرجی نے ابتداء ہی بیک وقت لوک سبھا و اسمبلی انتخابات کی شدید مخالفت کی ہے اور اسی کے تحت آج انہوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے جنوری میں بھی ایک مکتوب سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی قیادت والے پیانل کو اس کی مخالفت میں روانہ کیا تھا ۔ اسی طرح چیف منسٹر ٹاملناڈو و ڈی ایم کے لیڈر ایم کے اسٹالن نے بھی اس تجویز کو مخالف جمہوریت قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی کابینہ نے اس تجویز کو منظوری دی ہے اور یہ ناقابل عمل اور غیر جمہوری اقدام ہے اور اس سے علاقائی آواز کو دبایا جائیگا اور وفاقیت کو ختم کیا جائیگا اور اس کے نتیجہ میں حکمرانی میں رکاوٹ ہوگی ۔ انہوں نے انڈیا اتحاد کوا س کے خلاف جدوجہد کا مشورہ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت پر اس حملے کی ہمیں مزاحمت کرنی چاہئے ۔ بنگال اور ٹاملناڈو میں 2026 میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ عام آدمی پارٹی لیڈر اروند کجریوال نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کی ہے اور انہوں نے کہا کہ ایسے امور پر اتفاق رائے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نگہداشت صحت ‘ تعلیم اور انفرا اسٹرکچر کے شعبہ جات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے نہ کہ بیک وقت انتخابات کی ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی ترجیحات بالکل گمراہ کن ہیں ۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے بھی اس کے منفی اثرات پر توجہ دلائی ہے اور کہا کہ ملک کے وفاقی ڈھانچہ پر اس کا اثر ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مہاراشٹرا اور ہریانہ میں بیک وقت انتخابات نہیں کروائے جاتے جبکہ سارے ملک میں لوک سبھا و پارلیمانی انتخابات کی بات کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اپنی سہولت کے مطابق فیصلے کرنے کے عادی ہیں۔ مہاراشٹرا کی شیوسینا ادھو ٹھاکرے اور سی پی آئی ایم نے بھی اس تجویز کی مخالفت کی ہے اور کہا کہ یہ قوم کے مفاد میں نہیں ہے ۔

’ون نیشن ون الیکشن‘ پر کانگریس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں
نئی دہلی: کانگریس نے ‘ون نیشن ون الیکشن’ کی مخالفت کرکے کہا کہ اس معاملے پر اس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور کہا کہ پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے نے سال کے آغاز میں جو خیال ظاہر کیا تھا پارٹی اب بھی اسی پر قائم ہے ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ مرکزی کابینہ نے ملک میں سیاسی اصلاحات کے طور پر اہم فیصلہ میں ‘ایک ملک، ایک انتخاب’ سے متعلق بل کی منظوری دی ہے ۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اس بل کا مخالف کرکے اسے غیر جمہوری اور سیاہ قانون قرار دیتے ہوئے حکومت پر حملہ کیا ہے ۔ کانگریس کے مواصلات شعبے کے انچارج جے رام رمیش نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے نے اس موضوع پر 17 جنوری کو مضبوطی سے اپنی بات رکھی تھی اور اس کے بعد کانگریس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔پارٹی نے بل کو مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ یہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے ، لہذا کانگریس اس کی مخالفت کرے گی۔ اس معاملے پر کھڑگے نے جنوری میں سابق صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کو چار صفحات پر مشتمل ایک خط بھیجا تھا جس میں بل کا حقائق کے ساتھ مخالفت کرکے اسے آئین کی روح کے خلاف قرار دیا تھا، اور اس حوالے سے کانگریس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔