یہ ہے نیا ہندوستان …
!ووٹروں سے زیادہ ووٹ کا استعمال
ہفلانگ (آسام) : آسام کے ضلع دیما ہساوکے ایک بوتھ میں جملہ 171 ووٹ ڈالے گئے ، حالانکہ وہاں 90 افراد اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کے اہل ہیں۔ یہ سنگین بے ضابطگی آج پیر کو عیاں ہوئی ، جب عہدیداروں نے گزشتہ مرحلہ کی پولنگ کے اعداد و شمار کا انکشاف کیا۔ حلقہ اسمبلی ہفلانگ کے اس بوتھ پر یکم اپریل کو دوسرے مرحلہ کے تحت ووٹ ڈالے گئے تھے ۔ ہفلانگ میں 74 فیصد پولنگ درج ہوئی۔ جیسے ہی یہ واقعہ منظر عام پر آیاڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر نے بوتھ کے 5 انتخابی عہدیداروں کو معطل کردیا۔ یہ بوتھ 107(A) کوتھلیر ایل پی اسکول میں قائم کیا گیا تھا۔ آفیسر نے ری پولنگ کی تجویز پیش کردی ہے ۔ تاہم اس بوتھ پر دوبارہ رائے دہی کا سرکاری حکمنامہ ابھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔ جاریہ اسمبلی الیکشن میں یہ بے ضابطگی کے پہلا واقعہ نہیں۔ یکم اپریل کو پولنگ کے اختتام پر آسام میں ہی ایک مرکز رائے دہی سے مستعملہ ای وی ایم کی منتقلی میں متعلقہ عہدیداروں نے حد درجہ لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ای وی ایم کو خانگی گاڑی کے ذریعہ اسٹرانگ روم کو منتقل کیا تھا جہاں مقامی عوام نے اس کی نشاندہی کی اور وہاں پرتشدد احتجاج دیکھنے میں آیا تھا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نئے زمانہ کا ہندوستان ہے جہاں نہ صرف الیکشن بلکہ نظم و نسق کے کوئی بھی شعبہ میں کچھ بھی بے قاعدگی واقع ہوسکتی ہے۔!
