ووٹر لسٹوں کی نظر ثانی :عوام چوکنا ہوجائیں ، غفلت پر ووٹ سے محروم ہوں گے

   

Enumeration Form نہ بھرنے پر مسودہ ووٹر لسٹ میں نام نہیں رہے گا : آر وی کرنن
حیدرآباد ۔ 22 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : حیدرآباد ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر آر وی کرنن نے واضح اعلان کیا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظر ثانی (SIR) پروگرام 25 جون سے شروع ہوگا اور بوتھ لیول آفیسرس (BLOs) 25 جولائی تک ہر ووٹر کے گھر پہونچیں گے ۔ اگر کسی نے بی ایل او کو اپنی تفصیلات اور (Enumeration Form) بھر کر نہیں دیا تو ان کا نام ووٹر لسٹ سے ہمیشہ کے لیے خارج کردیا جائے گا ۔ آر وی کرنن نے آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ حیدرآباد ضلع کے تمام 15 اسمبلی حلقوں میں یہ مہم شروع ہوگی ۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال ضلع حیدرآباد میں صرف 46 فیصد میاپنگ کا عمل مکمل ہواہے ۔ آر وی کرنن نے واضح کردیا کہ جو لوگ میاپنگ میں شامل نہیں ہیں ، اگر وہ یہ Enumeration Form بھر کر جمع کروادیتے ہیں تو ان کا ووٹ محفوظ رہے گا ۔ Enumeration Form میں ووٹر کو اپنی بالکل نئی اور تازہ تصویر چسپاں کرنی ہوگی ۔ اگر بی ایل او کے گھر پہونچنے پر ووٹر گھر پر موجود نہ ہو تو خاندان کا کوئی بھی دوسرا بالغ رکن اس فارم کو بھر کر دستخط کرسکتا ہے ۔ یہ Enumeration Form الیکشن کمیشن کے پورٹل پر آن لائن بھی بھرا جاسکتا ہے ۔ فارم بھر کر بی ایل او کو دیتے وقت فی الحال کسی بھی دستاویز یا ثبوت دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ایک ماہ کے دوران BLOs گھر گھر پہونچکر فارمس تقسیم کرتے ہوئے اس کی خانہ پری کرائیں گے ۔ 31 جولائی کو مسودہ ووٹر لسٹ کی اشاعت ہوگی ۔ فارم جمع نہ کرانے یا غلط بھرنے والوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 جولائی سے 30 اگست تک اعتراضات قبول کئے جائیں گے ۔ یکم اکٹوبر کو فائنل ووٹر لسٹ جاری ہوگی ۔ اگر کسی ووٹر نے فارم غلط بھرا ، یا جمع نہیں کرایا تو الکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ERO) کی جانب سے نوٹس دی جائے گی ۔ نوٹس ملنے کے بعد 31 جولائی سے 30 اگست کے درمیان ووٹر کو الیکشن کمیشن کی جانب سے منظور شدہ 12 شناختی کارڈ جیسے پاسپورٹ ، ڈرائیونگ لائسنس ، پیان کارڈ وغیرہ میں سے کوئی ایک دستاویز (ERO) آفس میں دکھا کر اپنا نام درست کروانا ہوگا ۔ انتخابی عمل کو مکمل شفاف بنانے کیلئے ریاست بھر میں تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے 10,901 ( BLAs ) مقرر کئے گئے ہیں ، جن میں سے صرف ضلع حیدرآباد میں 4062 بی ایل اوز شامل ہیں ۔ یہ ایجنٹس بھی بی ایل اوز کے ساتھ ووٹرس کے گھر کو جائیں گے ۔ تمام BLAs اور BLOs کے پاس اپنے سرکاری شناختی کارڈس ہوں گے ۔ حیدرآباد الیکشن آفیسر کرنن نے سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس عمل میں کسی بھی بی ایل او کی جانب سے لاپرواہی یا غلطی پائی گئی تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی ۔۔ 2/m/b