زائد پولیس طاقت کے استعمال کی تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ ماہرین کا مطالبہ۔نااہل اندراجات حذف کئے جا رہے ہیں: الیکشن کمیشن
نئی دہلی، 21 اکتوبر (ایجنسیز) ملک میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ کانگریس اور انڈیا اتحاد کی دیگر اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی فہرستوں سے ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف بھی احتجاج کیا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس عمل میں بڑی تعداد میں اہل ووٹروں کے نام بھی خارج ہونے کا خدشہ ہے، جس سے حقِ رائے دہی متاثر ہوسکتا ہے۔ رائٹرز کی 13 اکتوبر کی رپورٹ میں انتخابی فہرستوں سے تقریباً 13 کروڑ ناموں کے اخراج سے متعلق تنازعے کا ذکر کیا گیا تھا۔ تاہم اس تعداد کو ملک بھر میں حتمی طور پر حذف شدہ اہل ووٹروں کی تعداد قرار دینا درست نہیں ہوگا، اخراج کی نوعیت، متعلقہ ریاستوں اور نظرثانی کے مختلف مراحل کی تفصیلات الگ سے جانچنا ضروری ہے۔ دریں اثنا، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے ہندوستانی حکام سے احتجاجی مظاہروں کے دوران مبینہ طور پر ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کو روکنے اور واقعات کی آزادانہ تحقیقات کرانے کی اپیل کی۔ ماہرین نے لاٹھی چارج، مظاہرین کی حراست اور اجتماع پر پابندیوں سے متعلق اطلاعات پر تشویش ظاہر کی۔ ہندوستانی حکومت کا موقف رہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قانون کے مطابق کارروائی کی ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ نظرثانی کا مقصد مردہ، منتقل ہوچکے، دوہری اندراج والے اور دیگر نااہل ووٹروں کے اندراجات کی اصلاح ہے اور غلط طور پر نام خارج ہونے کی صورت میں اپیل کے راستے موجود ہیں۔ دوسری جانب کانگریس اور انڈیا اتحاد نے انتخابی عمل میں شفافیت، حذف شدہ ناموں کے آڈٹ اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔