نظام آباد میں بی جے پی و مجلس کے درمیان ہنگامہ آرائی ، انتخابی عمل میں خامیاں دور نہ کرنے پر ووٹرس کو مشکلات کا اندیشہ
نظام آباد۔ 6 جنوری ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) حکومت کی جانب سے میونسپل الیکشن کے پیش نظر ڈرافٹ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے فہرست رائے دہندگان میں پیدا ہونے والے اعتراضات پر آج نظام آباد میونسپل کمشنر کی جانب سے انتخابی عمل کے تحت ڈرافٹ پر پیدا ہونے والے شبہات اور اعتراضات کے ازالے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا گیا ۔ یہ اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا، جہاں بی جے پی اور مجلس کے درمیان سخت جملہ بازی اور کشیدہ ماحول دیکھنے میں آیا۔ اجلاس میں ہر سیاسی جماعت کے نمائندوں کو شرکت کی اجازت دی گئی تھی جس کے پیش نظر کانگریس کی جانب سے ٹاؤن کانگرس صدر راماکرشنا، این رتناکر، بی آر ایس کی جانب سے نوید اقبال، سرپر راجو، اکبر نواز، سی پی آئی کے علاوہ دیگر تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی تاہم بی جے پی اور مجلس کی قیادت پہلے سے ہی ہنگامہ برپا کرنے کے ارادے سے اپنے کارکنوں کے ساتھ بڑی تعداد میں پہنچ گئی۔اجلاس کے دوران ڈرافٹ پر تبادلہ خیال کے وقت بی جے پی کے ضلع صدر دینش کلچاری نے جان بوجھ کر نظام آباد کے نام کو’’ اندور میونسپل کارپوریشن‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے مجلس قائدین کو اشتعال دلانے کی کوشش کی، جس کے جواب میں مجلس کے نمائندوں نے نظام آباد میونسپل کارپوریشن کا ذکر چھیڑ دیا۔ اس کے نتیجے میں اجلاس ہال میں تناؤ اور تصادم جیسا ماحول پیدا ہوگیا۔دونوں پارٹیوں کے درمیان نعرے بازی شروع ہو گئی اور اجلاس میں افرا تفری پیدا ہو گئی جبکہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے ڈرافٹ نوٹیفیکیشن پر اعتراضات ظاہر کرتے ہوئے کئی خامیاں پیش کی گئی ۔ اسمبلی انتخابات کی فہرست کے مطابق ڈرافٹ نوٹیفکیشن تیار کیا گیا ہے جبکہ ناموں کے اندراج کیلئے مہاراشٹر اور کاماریڈی و دیگر مقامات سے یہاں پر منتقل کئی افراد نے فارم نمبر 8 کے ذریعے درخواست گزاری کی ہے اس پر بھی تفصیلی طور پر واقف کروانا ضروری تھا لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے اور یہ سارا معاملہ افرا تفری کی حالت میں چلتا رہا اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے علحدہ طور پر اپنی اپنی نمائندگی پیش کی ۔ کمشنر کے چیمبر میں ہر سیاسی جماعت سے دو نمائندوں نے شرکت کرتے ہوئے سنجیدگی کے ساتھ کمشنر سے نمائندگی گئی اور 10 تاریخ کو ڈرافٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی آخری تاریخ ہے اور اس سے قبل فہرست رائے دہندگان میں پیدا ہونے والے خامیوں کو دور نہیں کیا گیا تو کارپوریشن کے انتخابات میں رائے دہندوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔اس پورے واقعہ پر عوامی حلقوں میں یہ سوال زیرِ بحث آیا کہ بی جے پی کے ضلع صدر نے ’’اندور‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے لیٹر پیڈ پر ’’نظام آباد‘‘ کا نام کیوں درج کیا، جبکہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ بی جے پی کے بعض قائدین انتخابی موسم میں دانستہ طور پر تنازعات اور ہنگامہ کھڑا کر کے سیاسی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی اندور کا معاملہ تھا تو سب سے پہلے لیٹر پیڈ میں اصلاح ضروری تھی۔ادھر میونسپل کمشنر کی وضاحت کے بعد بی جے پی کے ضلع صدر نے اجلاس سے باہر آ کر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ محمد علی شبیر کے فرزند محمد الیاس کو میئر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور نظام آباد میں ہندو مسلم فسادات کو ہوا دینے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم الیاس کا نام نظام آباد میں فہرست رائے دہندگان میں نام درج نہیں تو وہ نہ یہاں سے انتخاب کس طرح لڑ سکتے ہیں اور نہ ہی میئر بن سکتے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ بھی نشاندہی کی جا رہی ہے کہ موجودہ میئر کا عہدہ بی سی خواتین کے لیے محفوظ ہے، جس کے پیش نظر ابھی سے میئر کے تعلق سے بیانات دینا غیرسنجیدگی کا مظہر ہے۔ جبکہ آئندہ ریزرویشن کی صورتحال بھی ابھی واضح نہیں ہوئی ہے ماضی میں بھی بی جے پی کے بعض قائدین پر یہ الزام عائد ہوتا رہا ہے کہ انہوں نے جھوٹا پروپیگنڈہ پھیلا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ میئر کا عہدہ اقلیت کو دیا جا رہا ہے اور اب ایک بار پھر وہی پرانی حکمت عملی دہرائی جا رہی ہے۔ مونسپل کارپوریشن کے انتخابات کو لے کر بی جے پی ابھی سے سیاسی ماحول کو گرم کرتے ہوئے فرقہ پرستی کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ آئندہ ہونے والے انتخابات میں اس کو فائدہ ہو کیونکہ نظام آباد کہ مئیر کی نشست حاصل کرنے کیلئے منصوبہ بند طریقے سے بی جے پی اپنی کوشش کو جاری رکھی ہوئی ہے ۔ پارلیمنٹ اور اسمبلی میں کامیابی کے بعد بی جے پی میئر کے عہدے کے حصول کے لیے پوری کوشش کر رہی ہے۔
