نئی دہلی ۔13 اکتوبر ۔ (یو این آئی ) سپریم کورٹ نے پیر کے روز اس مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا جس میں کسی سابق جج کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعہ بنگلور سنٹرل کے مہادیو پورہ اسمبلی حلقہ اور ملک بھر کے دیگر متاثرہ حلقوں میں بڑے پیمانے پر ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کے الزامات کی تحقیقات کیلئے ہدایت دینے کی درخواست کی گئی تھی۔جسٹس سوریہ کانت اور جائمالیہ باغچی کی بنچ نے ایڈوکیٹ روہت پانڈے کی طرف سے دائر عرضی کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ ہم مفاد عامہ میں دائر کی جانے والی اس رٹ پٹیشن پر غور کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔تاہم، عدالت عظمیٰ نے کانگریس کے رکن درخواست گزار کو الیکشن کمیشن کے سامنے معاملہ اُٹھانے کی اجازت دی۔ بنچ نے کہا کہ اگر وہ مناسب سمجھے تو وہ اس معاملے کو الیکشن کمیشن کے سامنے اُٹھا سکتا ہے ۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی گئی تھی لیکن اس پر غور نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی کارروائی کی گئی۔ عرضی گزار نے 7 اگست 2025 کو پریس کانفرنس میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کا حوالہ دیا۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہاں جو چیز داؤ پر لگی ہے وہ کسی ایک انتخابی مقابلے کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ووٹر لسٹ کا اعتبار ہے ، جس پر پورا جمہوری عمل منحصر ہے ۔ پٹیشن میں دعویٰ کیا گیا ہے ،جب ووٹر لسٹ خامی اور دھوکہ دہی سے داغدار ہوتی ہیں، تو ووٹ ڈالنے کا حق اب تمام شہریوں کیلئے یکساں طور پر قابل رسائی نہیں رہ جاتا ہے ۔ یہ ہر بالغ فرد کی یکساں رائے دہی کے آئینی وعدے کو کمزور کرتا ہے ۔ درخواست میں الیکشن کمیشن کو یہ ہدایت دینے کی درخواست کی گئی تھی کہ وہ ووٹر لسٹوں میں مزید ترمیم یا حتمی شکل نہ دے جب تک کہ عدالت کی ہدایات پر عمل نہیں کیا جاتا۔