ووٹر نظرثانی میں غریب، پسماندہ اور اقلیتیں نظر انداز :تیجسوی یادو

   

پٹنہ17جولائی (یواین آئی) بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے آج الزام لگایا کہ ووٹروں کی گہرائی سے نظرثانی کے دوران غریب، پسماندہ اور اقلیتوں بالخصوص یادو[؟]ں کے نام جان بوجھ کرکاٹے جا رہے ہیں۔راشٹریہ جنتا دل کے سینئر لیڈر مسٹر یادو نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں اس پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ووٹر لسٹ سے غریب، پسماندہ اور اقلیتوں کو جان بوجھ کر خارج کیا جا رہا ہے ۔ اکثریتی علاقوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور بی ایل اوز کو بلانے کے بعد بھی وہ ان علاقوں میں نظر ثانی کے لیے نہیں جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن خود کہہ رہا ہے کہ تقریباً 35 لاکھ ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس اعداد و شمار کی ساکھ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہی نمبر تین دن پہلے ‘انڈین ایکسپریس’اخبار نے شائع کیا ہے ، پھر الیکشن کمیشن نیا کیا کہہ رہا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ ابھی ایک ہفتہ باقی ہے اور جن لوگوں کے نام حذف کیے گئے ہیں ان کی تعداد پہلے ہی جاری کردی گئی ہے ۔ یادو نے کہا کہ الیکشن کمیشن ہماری بات نہیں سن رہا ہے ۔ اس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 19 جولائی کو کانگریس پارٹی کے صدر ملکارجن کھڑکے کی رہائش گاہ پر ‘انڈیااتحاد ’کی میٹنگ طے کی گئی ہے ۔ تمام اتحادی جماعتوں کے ساتھ ہونے والی اس میٹنگ میں فیصلہ کیا جائے گا کہ آگے کی جنگ کیسے لڑی جائے ۔بہار ریاستی کانگریس کے صدرراجیش رام نے کہا کہ ہمارے پاس دھوکہ دہی کا پردہ فاش کرنے والا ایک ویڈیو ہے ۔ ہم اس ویڈیو کے ساتھ عوام کے سامنے جائیں گے ۔ مجھے امید ہے کہ عوام حقیقت جان کر خاموش نہیں بیٹھے گی۔وکاس شیل انسان پارٹی(وی آئی پی) کے رہنما مکیش سہنی نے کہا کہ اس ملک میں جمہوریت کو ختم کرنے کی سازش ہو رہی ہے ۔ اس سازش سے بہتر ہے کہ مودی جی ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کردیں۔