ووٹ چوری الزامات کی تحقیقات کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دی جائے

   

سپریم کورٹ میں درخواست دائر ۔ الیکشن کمیشن کو مزید نظرثانی یا قطعی فہرست کی اجرائی سے روک دینے کی استدعا

نئی دہلی 21 اگسٹ ( ایجنسیز ) قائد اپوزیشن راہول گاندھی کی جانب سے عائد کئے گئے ووٹ چوری کے الزامات کی تحقیقات کروانے سابق جج کی صدارت میں حصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک درخواست سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہے ۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ راہول گاندھی نے 7 اگسٹ کی پریس کانفرنس میں بنگلور سنٹرل کے ایک اسمبلی حلقہ اور دیگر مقامات پر ووٹر لسٹ میں دھاندلیوں کا الزام عائد کیا تھا اور اس تعلق سے انہوں نے ثبوت و شواہد بھی پیش کئے تھے ۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدالت کی ہدایت تک مزید کسی نظرثانی یا پھر فہرست رائے دہندگان کو قطعیت نہ دینے کی ہدایت بھی دی جائے ۔ یہ درخواست ایڈوکیٹ روہت پانڈے نے دائر کی ہے اور انہوں نے لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیا ہے ۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں یہ سنسنی خیز انکشاف کیا تھا کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن میں ساز باز ہوگئی ہے اور اس سلسلہ میں انہوں نے ووٹر لسٹ کے تجزیہ کو بھی پیش کیا تھا ۔ راہول گاندھی نے ووٹ چوری کے انکشاف کو ایٹم بم قرار دیا تھا جس کے بعد کرناٹک اور مہاراشٹرا کے چیف الیکٹورل آفیسروں نے راہول گاندھی سے وہ نام پیش کرنے کو کہا تھا جو ان کے مطابق غلط طور پر فہرست میں شامل کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ان سے حلفنامہ بھی طلب کیا گیا تھا تاکہ کمیشن ضروری کارروائی کرسکے ۔17 اگسٹ کو چیف الیکشن کمشنر گینیش کمار نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ راہول گاندھی کو یا تو اندرون سات دن حلفنامہ داخل کرنا چاہئے یا پھر ان کے ووٹ چوری کے دعووں کو بے بنیاد قرار دی دیا جائے گا ۔ سپریم کورٹ میں پیش کردہ عرضی میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ الیکشن کمیشن کیلئے واضح ہدایات جاری کرے کہ ووٹر لسٹ کی تیاری اور اس کی دیکھ بھال اور اشاعت میں مکمل شفافیت اور ذمہ داری کو یقینی بنایا جائے ۔ اس کے علاوہ فرضی یا ڈپلیکیٹ ناموں کی شمولیت اور ان کا پتہ چلانے کے تعلق سے بھی میکانزم پیش کیا جائے ۔ درخواست میں الیکشن کمیشن کو یہ ہدایت دینے کی بھی استدعا کی گئی کہ وہ قابل رسائی ‘ ای ووٹر لسٹ اور او سی آر فارمیٹ کی اجرائی عمل میں لائے تاکہ بامعنی ویریفیکیشن اور جانچ وغیرہ کی جاسکے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ بنگلورو سنٹرل پارلیمانی حلقہ میں ووٹر لسٹ میں سنگین بے قاعدگیاں پائی جاتی ہیں۔ اس کا عدالت کو جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ دستور کے تحفظ اور اس کی برقراری کیلئے عدالت کی مداخلت ضروری ہے ۔ درخواست گذار نے کہا کہ ووٹر لسٹ میں چار ماہ میں 39 لاکھ نام شامل کئے گئے ہیں جبکہ اس سے قبل پانچ سال میں 50 لاکھ ووٹوں کا اضافہ ہوا تھا ۔ درخواست گذار نے کہا کہ اس طرح کے اچانک اور غیر مناسب اضافہ کی وجہ سے الیکشن کمیشن کی شفافیت پر سوال پیدا ہو رہے ہیں اور یہ شبہات ہیں کہ یہ نام فرضی طور پر شامل کئے جا رہے ہیں۔ درخواست میں یہ بھی یاد دہانی کروائی گئی کہ سپریم کورٹ نے کئی مرتبہ واضح کیا ہے کہ انتخابات کا آزادنہ اور منصفانہ انعقاد دستور کے بنیادی ڈھانچہ کا حصہ ہے اور کسی بھی قانونی یا عاملہ اقدام کے ذریعہ اس کو متاثر یا کمزور نہیں کیا جاسکتا ۔راہول گاندھی کی پریس کانفرنس کے بعد ملک بھر میں اس مسئلہ پر عوامی سطح پر مباحث شروع ہوگئے ہیں۔