موجودہ ارکان اسمبلی کے پاس دولت کی کمی نہیں، بی جے پی اڈانی فنڈس کے ساتھ، کانگریس امیدواروں کو عوامی ہمدردی پر بھروسہ
حیدرآباد 23 نومبر (سیاست نیوز) ’ووٹ کے بدلے نوٹ‘ کا نعرہ ہر الیکشن میں سنائی دیتا ہے اور مقابلہ جس قدر سخت ہو، ووٹ کی قیمت اتنی بڑھ جاتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات میں شراب اور دولت کی تقسیم کو روکنے خصوصی مبصرین کا تقرر کیا اور تلاشی مہم میں کروڑہا روپئے ضبط کئے گئے لیکن امیدواروں اور پارٹیوں کی ووٹ کی خریدی کو روکنا آسان نہیں ہے۔ تلنگانہ میں برسر اقتدار بی آر ایس امیدوار جن میں اکثریت موجودہ ارکان کی ہے وہ دوبارہ کامیابی کیلئے بھاری رقومات خرچ کررہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایک ووٹ کیلئے 4000 تا 5000 روپئے کی پیشکش کی جارہی ہے۔ مقابل امیدوار جس قدر مضبوط ہوگا ووٹ کی قیمت میں اتنا اضافہ ہورہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض علاقوں میں نقد رقم کے بجائے ایک تولہ سونا دینے کی پیشکش کی جارہی ہے۔ مختلف اسمبلی حلقہ جات میں فی کس 4000 روپئے کے حساب سے 1.7 لاکھ ووٹرس کی نشاندہی کرلی گئی ۔ بعض مقامات پر ووٹر ایک ووٹ کیلئے 5000 کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ ایسے حلقے میں جہاں یکطرفہ الیکشن ہے وہاں ووٹر کو صرف 500 روپئے پر اکتفا کرنا پڑرہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کانٹے کی ٹکر والے علاقوں میں رائے دہی سے ایک دن قبل ووٹ کی قیمت 10 ہزار تک پہونچ جائیگی ۔ رقومات کی تقسیم میں بی آر ایس امیدوار اپنے حریفوں سے آگے ہیں۔ بی آر ایس کے بیشتر امیدوار کروڑپتی ہیں جبکہ کانگریس امیدواروں کے پاس دولت کی کمی ہے اور وہ صرف عوامی ہمدردی پر انحصار کئے ہوئے ہیں۔ کئی افراد نے تصدیق کی کہ اُنھیں 600 تا 1000 روپئے جلسوں اور ریالیوں کیلئے ادا کئے جا رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹیشن کیلئے علیحدہ 100 روپئے دیئے جاتے ہیں۔ بعض پارٹیوں نے 400 روپئے کے علاوہ غذا کیلئے 100 روپئے مقرر کئے ۔ بی آر ایس قائدین کا الزام ہے کہ کرناٹک سے کانگریس کیلئے بھاری رقم منتقل کی گئی جبکہ بی جے پی امیدواروں کو صنعتکار گوتم اڈانی سے فنڈس مل رہے ہیں ۔ اہم امیدواروں کو یہ کہتے سنا گیا کہ جو امیدوار رقم دے اُسے حاصل کرلیں لیکن ووٹ ہمیں دیں۔ فنڈس اور رقومات سے محروم کانگریس امیدوار ووٹر کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ بی آر ایس سے حاصل کرلیں لیکن ووٹ ہاتھ کے نشان پر لگائیں۔ کانگریس امیدواروں کو ابھی تک پارٹی فنڈ حاصل نہیں ہوا اور ایسے امیدوار جن کی مالی حالت کمزور ہے وہ دوست احباب اور صنعتکاروں سے عطیات حاصل کرکے مہم چلارہے ہیں۔ چونکہ کانگریس 10 سال اقتدار سے دور رہی لہذا پارٹی اور امیدواروں دونوں کو فنڈس کی کمی کا سامنا ہے۔ انتخابی مہم جیسے اختتامی مرحلہ میں داخل ہورہی ہے کانگریس امیدواروں کو ووٹر کو خوش کرنا چیلنج بن چکا ہے۔ کانگریس کو عوام کی ہمدردی پر بھروسہ ہے اور اُنھیں اُمید ہے کہ تلنگانہ میں تبدیلی کی یہ لہر اُنھیں کامیابی کی منزل تک پہنچائے گی۔ بی آر ایس اور بی جے پی بھلے ووٹ کے بدلے نوٹ کی پالیسی پر عمل کریں لیکن ووٹر اِس قدر ہوشیار ہوچکے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ پیسہ کس سے حاصل کریں اور ووٹ کس کو دیں۔