وٹیکن سٹی: وٹیکن سٹی کی طرف سے غزہ میں مسلسل اسرائیلی بمباری سے 28 ہزار سے زائد فلسطینیوں کے قتل کو قتل عام قرار دیے جانے پر اسرائیل نے سخت احتجاج کیا ہے۔ یہ احتجاج وٹیکن سٹی میں قائم اسرائیلی سفارت خانے کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ویٹی کن سٹی میں قائم اسرائیلی سفارت خانے کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں غزہ میں فلسطینیوں کے حق میں موقف کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ‘ غزہ جنگ کے بارے میں قانونی جواز ہونے یا نہ ہونے کا حکم جاری کرتے ہوئے ان حالات و واقعات کو پیش نظر نہ رکھنا جن کی وجہ سے یہ جنگ شروع کرنا پڑی قابل قبول نہیں ہو سکتا ہے۔’ایک روز قبل ہی پوپ کے نائب اور کارڈینئیل سکریٹری پیٹرو پیرولین نے اپنے اس موقف کو دہرایا تھا کہ اسرائیل کا حق دفاع یقیناً کسی نسبت تناسب کے ساتھ ہونا چاہیے تھا، 30 ہزار کی ہلاکتیں دیکھ کر اس حق دفاع کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا ہے۔’پیرولین نے کہا ‘ بلا شبہ ہم سب غصے میں ہیں کہ جو کچھ غزہ ہو رہا ہے یہ اچھا نہیں ، لیکن ہمیں امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے، بلکہ غزہ میں جنگ کے بجائے مسئلہ فلسطین کے دوسرے حل کی طرف جانا چاہیے۔’چہارشنبہ ویٹی سٹی میں سرکاری اخبار کے طور پر کام کرنے والے اخبار نے بھی پوپ فرانسس کے نائب کی طرف سے سامنے آنے والے اس بیان کے پیغام کو ہی اپنے اداریے میں آگے بڑھایا۔