ہندوستان میں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہونچانے کی منظم سازش ، فرقہ وارانہ ہاش ٹیاگ
حیدرآباد ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے ہندوستان میں سوشیل میڈیا پلیٹ فارم پر فرقہ وارانہ مواد اور ویڈیوز وائرل کرنے کے خلاف داخل کردہ درخواست میں جواب دینے کی مرکزی کو ہدایت دی ہے ۔ چیف جسٹس رگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس وی وجئے سین ریڈی کی بینچ نے ایڈیشنل سولیسٹر جنرل کو ہدایت دی ہے کہ وہ 18 اکٹوبر 2020 تک مرکزی کابینہ سکریٹری اور مرکزی داخلہ سکریٹری کے جوابات داخل کردے ۔ یہ احکامات امریکہ کے مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ٹیوٹر پر ’’فرقہ وارانہ ہاش ٹیاگ ‘‘ کے رحجان کے خلاف داخل کردہ درخواست پر جاری کئے گئے ہیں ۔ درخواست گذار نے عدالت سے اپیل کی کہ اس سلسلے میں مرکزی حکومت کا جوابی حلف نامہ ضروری ہے ۔ درخواست گذار ایڈوکیٹ خواجہ اعجاز الدین نے ہندوستان میں تمام ویب سائیٹس پر پابندی لگانے کی خواہش کی ہے ۔ یہ ویب سائٹس اسلامو فوبیا کے مواد کو پوسٹ کرکے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں ۔ ویب سائیٹ کے ان پوسٹس سے ہندوستانی مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہونچ رہی ہے ۔ اسی سال جون میں عدالت میں مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کی تھی اور جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی تھی ۔ تاہم اب تک کوئی جواب داخل نہیں کیا گیا ۔ اس معاملہ کی سماعت 19 اکٹوبر تک ملتوی کردی گئی ہے ۔