مریضوں کی منتقلی پر نظر رکھنے کے اقدامات ، حکومت تلنگانہ کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ 23 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : حکومت تلنگانہ نے ویدیا ودھان پریشد ہاسپٹلس میں ’ ریفرل میڈیسن ‘ فراہمی کے طریقہ کار کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تاکہ اس طریقہ کار کے ذریعہ مریضوں کو بڑے ہاسپٹلس روانہ کر کے اپنے فرض کی تکمیل کرلینے کے طریقہ کار پر نظر رکھی جاسکے ۔ ریاست میں تلنگانہ ویدیا ودھان پریشد ہاسپٹلس کی تعداد 111 جن میں ڈسٹرکٹ ، ایریا اور کمیونٹی ہیلت سنٹرس بھی شامل ہیں ۔ ایریا ہاسپٹلس میں گائینک ، پیڈیاٹرکس ، آرتھو ، جنرل سرجن ، انستیھسیا اسپیشالیٹی خدمات دستیاب رہیں گے ۔ جب کہ ڈسٹرکٹ ہاسپٹلس میں تقریبا تمام اسپیشالیٹی خدمات فراہم کی جارہی ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود کئی کیسیس پر ( مریضوں کو ) ان ہاسپٹلس میں توجہ نہ دیتے ہوئے حیدرآباد یا ضلعی سطح کے دواخانوں کو روانہ کردیا جارہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ گردے میں پتھر آنے جیسے مسائل سے متاثر مریض کو ڈسٹرکٹ ہاسپٹل میں علاج نہیں کیا جارہا ہے بلکہ ان مریضوں کو فوری طور پر حیدرآباد میں پائے جانے والے بڑے ہاسپٹلس سے رجوع کردیا جارہا ہے جس کی وجہ سے حیدرآباد صدر مقام پر پائے جانے والے بڑے سرکاری دواخانوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔ لہذا آئندہ سے کوئی بھی مریض کسی دواخانہ سے رجوع ہونے کی صورت میں وہاں علاج کی سہولت فراہم رہنے کی صورت میں وہیں پر علاج کرنا ہوگا ۔ اور اگر اتفاقی طور پر مریض کی صورتحال تشویشناک رہنے پر وہاں پر علاج کرنے کے موقف میں نہ رہنے پر ہی ان حالات میں ہی مریض کو دیگر دواخانوں کو منتقل کیا جانا چاہئے ۔ ریاستی کمشنر تلنگانہ ویدیا ودھان پریشد ڈاکٹر رمیش ریڈی نے یہ بات بتائی اور کہا کہ تلنگانہ ویدیا ودھان پریشد کے جملہ 2034 اسپیشلٹس ڈاکٹروں کی جائیدادوں کے منجملہ فی الوقت 717 ڈاکٹرس کی جائیدادیں مخلوعہ پائی جاتی ہیں اور 1317 ڈاکٹرس اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن ان میں اکثریت حیدرآباد اور مضافاتی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینے سے گریز کیا جارہا ہے ۔ ڈسٹرکٹ ہاسپٹلس میں اہمیت کے حامل اسپیشلیسٹس ڈاکٹروں کی جائیدادیں مخلوعہ پائی جاتی ہیں تاہم حکومت جہاں کہیں بھی ڈاکٹروں کی ضرورت محسوس کررہی ہے فوری طور پر ان مقامات پر تعینات کرنے کے اقدامات کررہی ہے ۔۔