چندی گڑھ: غیر سرکاری تنظیم گرامین بھارت کے صدر اور ہریانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان وید پرکاش ودروہی نے چہارشنبہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی-جنائک جنتا پارٹی (جے جے پی) پر کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر سرسوں کی خریداری دوبارہ شروع نہ کرنے پر تنقید کی اور حکومت کی شدید مذمت کی ہے ۔ ودروہی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر اور بی جے پی-جے جے پی حکومت کے وزیر سنتری، میڈیا کے بیانات بہادر ہیں اور یہ دعویٰ کرتے رہتے ہیں کہ کسانوں کی سرسوں کا ایک ایک دانہ5450 روپے فی کوئنٹل کے حساب سے خریدا جائے گا۔ لیکن 15-20 دن کے اندر سرسوں کی سرکاری خریداری کا باقاعدہ آغاز کرنے کے اگلے ہی دن یہ کہہ کر خریداری روک دی گئی کہ نیفیڈ نے سرسوں کا اپنا کوٹہ خرید لیا ہے ، اب ہافڈ مزید سرسوں کی خریداری کرے گی۔ لیکن اس اعلان کے ایک ہفتہ بعد بھی ہافڈ نے ایم ایس پی پر سرسوں کی سرکاری خریداری شروع نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کھٹر حکومت کا یہ رویہ کسان مخالف ہے اور بی جے پی-جے جے پی حکومت نے سرسوں کی پیداوار کرنے والے کسانوں کو نجی تاجروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ۔ اہیروال کے علاقے میں بارش، طوفان اور ژالہ باری سے سرسوں کی فصل کو پہلے ہی کافی نقصان ہو چکا ہے ۔ کسانوں کی سرسوں کی فصل تباہ ہوگئی، پیداوار کم ہوئی اور اس کے علاوہ حکومت نے سرکاری خریداری روک دی اور کسانوں کو لوٹنے پر چھوڑ دیا۔انہوں نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے قول و فعل کو یکجا کریں اور سرسوں کی پیداوار کرنے والے کسانوں کو لوٹنے کے بجائے اپنے وعدے کے مطابق فی کونٹل ایم ایس پی 5450 فی کنٹل کے حساب سے سرسوں کے ایک دانے کی سرکاری خریداری فوری شروع کریں۔
