ویسٹ انڈیز ورلڈ کپ 2024 کی تیاری شروع کردے :بشپ

   

ہرارے۔ سابق کرکٹر اور نامور کمنٹیٹر ایان بشپ اور سابق کپتان کارلوس بریتھویٹ نے زمبابوے میں مینز کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائر 2023 میں ویسٹ انڈیز کی ناکام مہم کا پردہ فاش کیا، جس کا مطلب ہے کہ دو بارکے چمپئن میگا آئی سی سی سے محروم رہیں گے۔ کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائر 2023 کی مہم کے اوائل میں یہ نشانیاں موجود تھیں لیکن ویسٹ انڈیز کے عظیم کارلوس براتھویٹ کے مطابق اب یہ سب سے کے سامنے ہے جوکہ ویسٹ انڈیز کا سب سے مایوس کن نتیجہ ہے ۔ اسکاٹ لینڈ سے ویسٹ انڈیز کی پہلی ونڈے میں شکست نے ان کی قسمت پر مہر لگا دی، حالانکہ اس سے قبل زمبابوے اور نیدرلینڈز کے خلاف شکست نے سوپر سکس مرحلے کے لیے کوالیفائی کرنا پہلے ہی مشکل بنا دیا تھا۔ صفر پوائنٹس کے ساتھ ٹورنمنٹ کے نازک مرحلے میں داخل ہونے کا مطلب یہ تھا کہ ویسٹ انڈیز کے پاس غلطی کی بہت کم گنجائش تھی اور غالباً اسے باقی تینوں میچز جیتنے کی ضرورت تھی، لیکن وہ پہلی رکاوٹ میں ہی ناکام ہوگئی۔ بشپ نے کہا یہ کرکٹ ورلڈ کپ کے سابق دو بار فاتح، دو بار کے ورلڈ (کپ) ٹی20 چمپئنز کی ڈرامائی طور پر تنزلی ہے۔ کپتان بدلو، کوچ بدلو، جس کو چاہو بدلو، اب بھی نتائج توقع کے خلاف آئے ہیں۔ اگر ہم اس ٹورنمنٹ کے آغاز پر واپس جائیں تو ویسٹ انڈیز ایک مکمل رکن ملک کی حیثیت سے بڑی امیدوں کے ساتھ میدان میں اتری لیکن گروپ مرحلے میں کارکردگی کی سطح پر مایوسی ہوئی۔ اگلے ٹی20 ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیزکے پاس پہلے سے ہی جگہ موجود ہے، جب یہ 2024 میں کیریبین کے ساتھ ساتھ امریکہ میں بھی منعقد ہوگا، اور گھر کی سرزمین پر زیادہ قابل مہم کے لیے منصوبہ بندی کرنا شروع کر سکتا ہے۔ بشپ نے ایلک اتھانازے، کیون وکھم اور جیڈن سیلزکو امید افزا نوجوان کھلاڑیوں کے طور پر منتخب کیا جنہیں مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں، جب کہ ابھرتے ہوئے اسپنر کیون سنکلیئر کو صرف ان کے کوالیفائر اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔ کرکٹ ورلڈ کپ 2019 میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم کا حصہ بننے کے بعد شیرفین ردرفورڈ، اوشین تھامس اور فیبین ایلن کو بھی ٹیم سے باہر رکھا گیا۔