حیدرآباد 29 اگست : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ ہائی کورٹ نے آل انڈیا ویلما اسوسی ایشن اور کما واری سیوا سنگھلا سمکھیا کو کمیونٹی سنٹرس کی تعمیر کے لیے الاٹ کی گئی اراضی کی مارکٹ قیمت کا اندازہ کرنے کی ریاست حکومت کو اجازت دی ۔ تاہم عدالت نے واضح کہا کہ مدعی علیہان کی جانب سے نامزد کردہ اراضی پر کوئی تعمیر کی گئی ہو تو جاریہ رٹ درخواست کا ایشیو ہوگا جب کہ مزید کوئی تعمیر نہیں کی جانی چاہئے ۔ چیف جسٹس الوک ارادھے اور جسٹس ٹی ونود کمار پر مشتمل بنچ کاکتیہ یونیورسٹی ورنگل کے ایک ریٹائرڈ پروفیسر آف اکنامکس اے ونائیک ریڈی کی مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کررہی تھی ۔ اس میں کہا گیا کہ یہ اراضی مبینہ طور پر حکومت کی جانب سے بے قاعدگیاں کرکے الاٹ کی گئی ۔ ونائیک ریڈی نے کہا کہ اس الاٹمنٹ میں صحیح طریقہ کار کو نہیں اپنایا گیا اور اس سے مستفید دونوں ذاتوں کو عام طور پر معاشی اعتبار سے خوشحال سمجھا جاتا ہے ۔ درخواست گذار کی نمائندگی کرتے ہوئے کے وی راجا سری نے استدلال پیش کیا کہ یہ الاٹمنٹ دستور کی خلاف ورزی میں کیا گیا جس کا مقصد مراعات سے محروم طبقات یا ذاتوں کو فوائد فراہم کرنا ہے جیسے مفت اراضی الاٹمنٹ اس کے جواب میں ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے کہا کہ کمیونٹی سنٹرس کی تعمیر کے لیے اراضی مفت فراہم نہیں کی گئی ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اراضی کی قیمت کا تعین حکومت کی جانب سے جی او 571 میں مقرر کردہ شرحوں کے مطابق ہوگا ۔۔