حیدرآباد۔20۔ستمبر۔(سیاست نیوز) صدر مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹراسدالدین اویسی نے مرکز کی پیش کردہ خواتین تحفظات بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس بل میں مسلم خواتین اور دیگر پسماندہ طبقات کو شامل نہیں کیاگیا ہے اسی لئے وہ اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اسد اویسی نے لوک سبھا میں خواتین تحفظات بل پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں 50 فیصد سے زیادہ مسلم خواتین ناخواندہ ہیں اور ان کی ترقی کیلئے انہیں ایوان میں منتخب کروانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں 7 فیصد مسلم خواتین ہیں لیکن ایوان میں ان کی نمائندگی محض0.7 فیصد تک محدود ہے۔انہو ںنے مسلم لڑکیوں کے ترک تعلیم کے اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 19 فیصد مسلم لڑکیاں ترک تعلیم پر مجبور ہیں جبکہ دیگر طبقات میں محض 12 فیصد لڑکیاں ترک تعلیم کر رہی ہیں۔ صدر مجلس نے خواتین تحفظات بل ’ناری وندنا ادھی نیایم ‘ پر شدید تنقید کرتے ہوئے بی جے پی کی پالیسی پر تنقید کی اور کہا کہ بی جے پی کس ناری وندنا کی بات کررہی ہے !اسی ملک میں بلقیس بانو کی عصمت ریزی کرنے والوں کو رہا کیا گیا ! انہو ںنے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اعلیٰ ذات سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ایوانوں میں پہنچانے کا راستہ فراہم کر رہی ہے۔ صدر مجلس نے کہا کہ تحفظات کے معاملہ میں حکومت کی جانب سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر تحفظات کی قانون میں گنجائش نہیں ہے لیکن خواتین کو تحفظات کے بل کے ذریعہ حکومت پسماندہ اور پچھڑے ہوئے طبقات کو ایوان میں نمائندگی سے محروم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔بیرسٹراویسی نے کہا کہ ایوان نمائندگان میں خواتین کو تحفظات کی فراہمی کیلئے تمام طبقات کی خواتین کو مناسب نمائندگی دی جانی چاہئے لیکن اس بل میں مسلم اور پسماندہ خواتین کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اسی لئے وہ اور ان کی پارٹی اس بل کی مخالفت کررہے ہیں۔