برمنگھم، 13جون (یواین آئی) ہرمن پریت کور کی قیادت میں ہندوستانی ٹیم آئی سی سی ویمنز ٹی20ورلڈ کپ2026 کے اپنے پہلے میچ میں روایتی حریف پاکستان کے خلاف کامیابی کے ساتھ مہم کا آغاز کرنا چاہے گی، جبکہ ایجبسٹن اسٹیڈیم میں اتوار کو اس مقابلے میں پاکستانی ٹیم اپ سٹ کرنے کے ارادے سے میدان میں سنبھالے گی۔ یہ مقابلہ نہ صرف گروپ مرحلے میں پوائنٹس ٹیبل کے لحاظ سے اہم ہے بلکہ کئی دیگر وجوہات کی بنا پر بھی خاص اہمیت رکھتا ہے ۔ کاغذ پر ہندوستان کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے کیونکہ دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے 16 ٹی20 مقابلوں میں سے 13میں ہندوستان کامیاب رہا ہے۔ تاہم یہ اعداد و شمار اس میچ سے جڑے ذہنی دباؤ کی مکمل عکاسی نہیں کرتے ۔ ہندوستان کیلئے چیلنج صرف جیتنا ہی نہیں بلکہ اپنے دیرینہ غلبے کو برقرار رکھنا بھی ہے ، کیونکہ ایسے مقابلوں میں پہلی گیند پھینکے جانے سے پہلے ہی دباؤ پیدا ہو جاتا ہے ۔ ہرمن پریت ایسی بھارتی ٹیم کی قیادت کر رہی ہیں جو توازن اور گہرائی کے باعث اپنی الگ شناخت رکھتی ہے ۔ سمرتی مندھانا اور شیفالی ورما پر مشتمل ٹاپ آرڈر جارحانہ آغاز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، جبکہ جمیما روڈریگز اور ریچا گھوش مڈل اور ڈیتھ اوورز میں استحکام اور بہترین فنشنگ فراہم کرتی ہیں۔ تاہم بھارت کی اصل طاقت اس کا اسپن اٹیک سمجھی جا رہی ہے ، جہاں دیپتی شرما، رادھا یادو اور شری چرنی کی تین رکنی اسپن جوڑی میچ کی رفتار کو قابو کرنے اور مڈل اوورز میں رنز کی رفتار محدود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دوسری جانب پاکستان ماضی کے ریکارڈ کے بوجھ کے ساتھ میدان میں اترے گا، لیکن اس پر توقعات کا زیادہ دباؤ نہیں ہوگا۔ ٹورنامنٹ سے قبل اس کی تیاری اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ تاہم کپتان فاطمہ ثنا ٹیم کی اہم ترین کھلاڑی ہیں جو مؤثر بیٹنگ کے ساتھ آل راؤنڈر کی حیثیت سے بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ منیبہ علی سے ٹاپ آرڈر کو سنبھالنے کی امید کی جا رہی ہے ، جبکہ دیگر بیاٹرس پر ہندوستان کے منظم بولنگ اٹیک کا مقابلہ کرنے کی ذمہ داری ہوگی۔