مرکزی وزارت پرسونل کا اقدام، محمد علی شبیر کی صدر جمہوریہ سے شکایت پر کارروائی
حیدرآباد۔/17نومبر، ( سیاست نیوز) سدی پیٹ کے سابق کلکٹر وینکٹ رام ریڈی کے خلاف بدعنوانیوں کے الزامات کے سلسلہ میں مرکزی وزارت پرسونل اینڈ ٹریننگ نے چیف سکریٹری تلنگانہ سے رپورٹ طلب کی ہے۔ سابق وزیر محمد علی شبیر جنہوں نے وینکٹ رام ریڈی کے خلاف صدر جمہوریہ سے شکایت کی تھی میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ صدر جمہوریہ نے سدی پیٹ اور کاماریڈی کے کلکٹرس کے بارے میں ڈپارٹمنٹ آف پرسونل اینڈ ٹریننگ سے رپورٹ طلب کی ہے۔ دونوں کلکٹرس نے سیول سرویس رولس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر کے پیر چھوئے تھے۔ صدر جمہوریہ کے دفتر اور ڈپارٹمنٹ آف پرسونل اینڈ ٹریننگ کی جانب سے محمد علی شبیر کو اطلاع دی گئی کہ چیف سکریٹری تلنگانہ سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وینکٹ رام ریڈی نے کلکٹر کے عہدہ سے استعفی دے دیا لیکن ٹی آر ایس حکومت دونوں عہدیداروں کو بچانے کیلئے رپورٹ روانہ کرنے سے گریز کررہی ہے۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ وینکٹ رام ریڈی کے خلاف 90 سے زائد شکایات ہیں اور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کے تحت تین معاملات میں کارروائی کی گئی۔ سی بی آئی کرپشن کے ایک معاملہ کی جانچ کررہی ہے۔ اس قدر بدعنوانیوں میں ملوث عہدیدار کو اندرون 12 گھنٹے ٹی آر ایس نے ایم ایل سی کا امیدوار بنادیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے پرچہ جات نامزدگی کی جانچ کے بعد امیدواروں کے حلف نامہ کو آن لائن کردیا ہے لیکن وینکٹ رام ریڈی نے کسی بھی مقدمہ کی حلف نامہ میں تردید کی ہے۔ اس معاملہ کو کانگریس پارٹی ہائی کورٹ سے رجوع کرے گی۔ ر