جکارتہ : انڈونیشیائی عوام میں یہ پریشانی پائی جاتی ہے کہ کورونا ویکسین حلال ہو گی یا حرام۔ اس تناظر میں صدر انڈونیشیا نے عوام کو بے چین اور پریشان ہونے سے گریز کی تلقین کی ہے۔دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان آبادی کے حامل ملک انڈونیشیا کے عوام میں کورونا وائرس کے انسداد کی ویکسین کے حوالے سے اضطراب بڑھ رہا ہے کہ آیا یہ حلال بھی ہو گی۔ اس پریشانی و بے چینی کی وجہ انڈونیشی علماء کونسل کا سن 2018 میں دیا گیا وہ فتویٰ ہے، جس نے خسرہ بیماری کی ویکسین کو حرام قرار دے کر اس کا استعمال ممنوع کر دیا تھا۔اس تناظر میں ملکی صدر جوکو ویدودو نے اپنے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ کورونا وائرس کے انسداد کی ویکسین کے حوالے سے قبل از وقت پریشانی میں مبتلا نہ ہوں۔ انڈونیشیا میں کووڈ انیس بیماری میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد 3 لاکھ 65,000 سے تجاوز کر چکی ہے اور اس وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بارہ ہزار چھ سو سترہ ہے۔ کل پیر انیس اکتوبر کو بھی کورونا کی لپیٹ میں آنے والے مریضوں کی تعداد 3,400 کے قریب ہے۔ انڈونیشیائی حکومت اس وبا کے انسداد کیلئے دستیاب ہونے والی ویکسین کی منظوری رواں برس نومبر میں دینے والی ہے۔ صدر ویدودو نے عوام کو تحمل کا مظاہرہ کرنے اور منظوری دینے والے ماہرین کو احتیاط کے تمام تقاضے پورے کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ویکسین کے حلال ہونے کے حوالے سے پیدا عوامی خدشات کو رفع کرنا بھی ازحد اہم ہے۔ انڈونیشیا میں بظاہر ویکسین کا حصول اور اس کی باضابطہ منظوری ایک پیچیدہ معاملہ دکھائی دیتا ہے۔ ویدودو نے متعلقہ ادارے سے کہا ہے کہ وہ انسدادِ کورونا کی حلال ویکسین کے حوالے سے عوام کو درست معلومات پوری شفافیت سے فراہم کرے۔ انڈونیشی صدر نے یہ تمام ہدایات ایک بند کمرے کے اجلاس میں متعلقہ حکومتی اہلکاروں کو دیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ غیر منظور شدہ ویکسین حاصل کرنے کی مبینہ حکومتی کوششوں پر وباؤں کے انڈونیشی ماہرین بھی انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ ویدودو حکومت اعلان کر چکی ہے کہ اگلے برس ایک سو ملین افراد کو ویکسین فراہم کی جائے گی۔ ملکی صدر کے علاوہ ماہرین کا بھی خیال ہے کہ ہزاروں جزائر پر مشتمل ملک کی دو سو ستر ملین آبادی کو ویکسین کی فراہمی انتہائی پیچیدہ عمل ہے۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ویکسین لگانے کا عمل اسی وقت شروع ہو گا جب ماہرین کے ساتھ ساتھ علماء کونسل بھی اسے حلال قرار دے گی۔ انڈونیشیا کی حکومت پہلے ہی 50 ملین ویکسین کی خوراک دواساز چینی کمپنی سائنوویک سے اگلے برس مارچ تک حاصل کرنے کا ایک معاہدہ کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ 100 ملین خوراک آسٹرا زینیکا سے اگلے برس اپریل تک حاصل کرنے کا بھی معاہدہ کیا جاچکا ہے۔
