حیدرآباد ۔ 22 اگست (سیاست نیوز) سائبر آباد میں ویک اینڈ میں شراب نوشی کے بعد ڈرائیونگ کرنے کا رجحان بہت خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ جہاں اس سال اب تک سڑک حادثات میں ہوئی 145 اموات میں 71 اموات حالت نشہ میں گاڑی چلانے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ سائبر آباد پولیس نے کہا کہ ویک اینڈس میں ہونے والے مہلک سڑک حادثات میں بڑی تعداد حالت نشہ میں گاڑی چلانے کے باعث ہوئے ہیں۔ حالت نشہ میں گاڑی چلانے والے حادثات میں ہلاک ہورہے ہیں یا ان کی وجہ سڑک حادثات میں دوسروں کی موت ہو رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سائبر آباد میں واقع اس سال جولائی تک ویک اینڈس کے دوران سڑک حادثات میں ہوئی 145 اموات میں 71 اموات حالت نشہ میں گاڑی چلانے کی وجہ سے پیش آئی ہیں۔ جس میں ڈرائیور یا ان کے ساتھ رہنے والوں یا پیدل راہگیروں کی موت ہوئی۔ ان میں 20 لوگوں کی جمعہ کے دنوں میں موت ہوئی جبکہ ہفتہ کے دنوں میں 18 اور اتوار کے ایام میں 33 اشخاص ہلاک ہوگئے۔ عہدیداروں نے کہا کہ حالت نشہ میں گاڑی چلانے کے خلاف پولیس کی خصوصی مہم میں یہ دیکھا گیا کہ اس میں پکڑے گئے کئی لوگ اس غلط فہمی میں تھے کہ انہوں نے بہت تھوڑی مقدار میں الکوہل کا استعمال کیا ہے اور اس سے ان پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ’’وہ غلط ہے حادثات کی تفصیلات سے صاف ظاہر ہوتا ہیکہ حالت نشہ میں ڈرائیونگ کرنا سڑک حادثات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ سائبر آباد ڈی سی پی ٹریفک ایس ایم وجئے کمار نے بتایا کہ حالت نشہ میں گاڑی چلانا اور غیر مجاز اشخاص کا ڈرائونگ کرنا سڑک حادثات اور اموات کا بڑا سبب ہے۔ سڑک حادثات کے تدارک اور لوگوں کی زندگی کو بچانے کے لئے شہریوں کو بھی اس کام میں شامل ہونے کی ضرورت ہے۔ انہیں عدالت میں پیش کرنے کے علاوہ حالت نشہ میں گاڑی چلاتے ہوئے پکڑے جانے والے تمام لوگوں کے ڈرائیونگ لائسنس بھی ضبط کئے جارہے ہیں۔ انہیں موٹر وہیکل ایکٹ 1988 کے مطابق معطل کرنے کے لئے متعلقہ ریجنل ٹرانسپورٹ دفاتر کو روانہ کیا جارہا ہے۔ وجئے کمار نے کہا کہ مہلک حادثات کا سبب بننے والے بالخصوص حالت نشہ میں گاڑی چلانے والوں کو تعزیرات ہند کے سیکشن 304 Part II کے مطابق مقدمہ درج کیا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں انہیں 10 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ حالت نشہ میں گاڑی چلانے یا ڈرائیورس کے ساتھ ہونے والے اشخاص کے خلاف بھی جرم پر اکسانے کے لئے قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔