وی ایچ پی میٹنگ میں 30 ریٹائرڈ ججس شریک،وقف بل کے بشمول متنازعہ معاملوں پر غور

   

نئی دہلی : وشوا ہندو پریشد ایسا لگتا ہے کہ ملک بھر میں متنازعہ مسائل کو اچھالتے ہوئے آنے والے ہفتوں میں ماحول بگاڑنا چاہتا ہے۔ اس کا اندازہ وی ایچ پی کی حالیہ میٹنگ میں سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس کے ایک دو نہیں بلکہ 30 ریٹائرڈ ججس کی شرکت ہے۔ اتوار کو وی ایچ پی کے لیگل سیل کی میٹنگ ہوئی جس میں وارنسی اور متھراکی مندروں کے علاوہ وقف (ترمیمی) بل کے بشمول تبدیلی مذہب اور دیگر مسائل پر غور کیا گیا جو ملک کے پرسکون ماحول کو بگاڑنے کیلئے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔تشویش کی بات یہ ہے کہ مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال بھی اس موقع پر موجود تھے۔ صدر وی ایچ پی الوک کمار نے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ریٹائرڈ ججس کو مدعو کیا تھا۔ ہم نے سماج کو درپیش اجتماعی مسائل جیسے وقف ترمیمی بل ، مندروں کی بحالی اور تبدیلی مذہب جیسے مسائل پر غور و خوض کیا ۔ الوک کمار نے بتایا کہ اس میٹنگ کا مقصد ججوں اور وی ایچ پی کے درمیان آزادانہ تبادلہ خیال رہا تاکہ دونوں ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور اس کے بعد وی ایچ پی کو بطور تنظیم اپنا لائحہ عمل طئے کرنے میں مدد ملے۔ ترجمان وی ایچ پی نود بنسل نے بھی بریفنگ کی۔