وی وی ایس لکشمن سکندرآباد سے امکانی بی جے پی امیدوار

   


بی جے پی میں قائدین کی رسہ کشی ، جی کشن ریڈی اسمبلی کے لیے مقابلہ کرسکتے ہیں
حیدرآباد۔7۔اکٹوبر(سیاست نیوز) سکندرآباد پارلیمنٹ سے بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے موجودہ رکن پارلیمنٹ و مرکزی وزیر سیاحت جی کشن ریڈی کو دوبارہ رکن پارلیمنٹ نہیں بنائے گی! تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو مستحکم کرنے کے لئے پارٹی کی جانب سے سکندرآباد پارلیمانی حلقہ سے نئے چہرہ کو پیش کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے سابق کرکٹ کپتان وی وی ایس لکشمن کو سکندرآباد لوک سبھا سے امیدوار بنانے پر غور کرنا شروع کردیا ہے اور ان کے متعلق زمینی حقائق اور تفصیلات طلب کی جار ہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مرکزی وزیر کی نگرانی میں حلقہ سکندرآباد پارلیمنٹ کے متعلق رپورٹ کی تیاری کیلئے کمیٹی نے مکمل تفصیلات بی جے پی اعلیٰ قیادت کو تفویض کردی ہے اور کہا جار ہاہے کہ آئندہ عام انتخابات میں حلقہ سکندرآباد پارلیمانی نشست سے وی وی ایس لکشمن امیدوار ہوسکتے ہیں۔بی جے پی ذرائع کے مطابق حلقہ پارلیمنٹ سکندرآباد سے خاتون کرکٹر متھالی راج‘ گورنر ہریانہ مسٹر بنڈارو دتاتریہ کی دختر وجیہ لکشمی کے علاوہ موجودہ رکن پارلیمنٹ و مرکزی وزیر مسٹر جی کشن ریڈی کا نا م بھی زیر غور ہے۔ذرائع کے مطابق مسٹر جی کشن ریڈی عام انتخابات سے قبل ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اپنے سابقہ حلقہ اسمبلی عنبر پیٹ سے مقابلہ کے خواہاں ہیں اسی لئے وہ چاہتے ہیں کہ حلقہ پارلیمنٹ سکندرآباد سے وی وی ایس لکشمن کو بی جے پی کا امیدوار بنایا جائے۔پارٹی کو موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق وی وی ایس لکشمن کو بی جے پی امیدوار بنائے جانے کی صورت میں بی جے پی کے کیڈر کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی بی جے پی کے ساتھ آسکتے ہیں جو نظریاتی اعتبار سے بی جے پی کے حق میں نہیں ہیں۔پارٹی قائدین کا کہناہے کہ مسٹر جی کشن ریڈی جو وی وی ایس لکشمن کو سکندرآباد حلقہ پارلیمنٹ سے امیدوار بنانے کے حق میں ہیں وہ نہیں چاہتے کہ حلقہ پارلیمان سکندرآباد سے وجیہ لکشمی دختر بنڈارو دتاتریہ کو امیدوار بنایا جائے اور دونوں قائدین کے مختلف گروپس بنے ہوئے ہیں۔ پارٹی سینیئر قائدین کا کہناہے کہ جی کشن ریڈی پارٹی میں نئی قیادت کو ابھارنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پارٹی کے سینیئر قائدین کی اہمیت کو گھٹایا جارہا ہے اسی لئے کئی سینیئر مسٹر جی کشن ریڈی سے دوری اختیارکئے ہوئے ہیں۔ کشن ریڈی کو مرکزی وزارت میں شامل کئے جانے کے بعد وہ شہر حیدرآباد میں اپنے ہمنوا قائدین کو وقت نہیں دے پا رہے ہیں اسی لئے وہ دوبارہ حلقہ اسمبلی عنبر پیٹ سے مقابلہ کے خواہاں ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ متھالی راج کے نام پر بھی پارٹی اعلیٰ قائدین نے غور کرنا شروع کردیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ پارٹی اس سلسلہ میں جلد ہی اپنے امیدوار کو قطعیت دینے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔سکندرآباد پارلیمانی حلقہ سے امیدوار کے انتخاب کے متعلق بھارتیہ جنتاپارٹی کی جانب سے رائے دہندوں میں طبقہ واری فیصد کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کئے جانے کی بھی اطلاعات موصول ہورہی ہیں اور کہا جار ہاہے کہ پارٹی اعلیٰ قیادت نے اب تک موصول ہونے والی رپورٹس کا جائزہ لینے اور حقائق سے آگہی حاصل کرنے کے لئے بھی علحدہ کمیٹی تشکیل دی ہے ۔م