مقدمات کی مذمت، کمشنر پولیس انجنی کمار سے فون پر بات چیت
حیدرآباد ۔ 6 ۔ جنوری (سیاست نیوز) سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے آج متنازعہ شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاج کرنے والی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کنوینر محمد مشتاق ملک سے ملاقات کی اور پولیس کی جانب سے ان کے خلاف مقدمات درج کئے جانے کی مذمت کی ۔ ہنمنت راؤ نے مشتاق ملک سے اظہار یگانگت کیا اور کہا کہ کانگریس پارٹی ان کے ساتھ ہے اور مقدمات سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ۔ حکومت پر امن اور ڈسپلن کے ساتھ ملین مارچ منعقد کرنے پر مقدمات درج کرتے ہوئے آخر عوام کو کیا پیام دینا چاہتی ہے۔ مقدمات عام طور پر تشدد اور ہنگامہ آرائی کی صورت میں درج کئے جاتے ہیں۔ ہنمنت راؤ نے کمشنر پولیس حیدرآباد انجنی کمار سے فون پر ربط قائم کیا اور کہا کہ کنوینر جے اے سی کے خلاف مختلف پولیس اسٹیشنوں میں 20 مقدمات غیر منصفانہ ہیں۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ وہ گزشتہ 40 برسوں سے سرگرم سیاست میں حصہ لے رہے ہیں اور آج تک انہوں نے ڈسپلن کے ساتھ ملین مارچ کی طرح ریالی نہیں دیکھی ۔ انہوں نے کہا کہ ملین مارچ دراصل یوم آزادی تقریب کی طرح دکھائی دے رہا تھا جس میں ہر شخص قومی پرچم تھامے ہوئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ مارچ کے بعد ہندو ، مسلم والینٹرس نے سارے علاقہ کی صفائی کرتے ہوئے بہترین مثال قائم کی ہے۔ ایسی منفرد ریالی کے منتظمین کے خلاف مقدمات درج کرنا غیر ضروری ہے۔ ہنمنت راؤ نے کمشنر پولیس سے کہا کہ بیجا مقدمات کی صورت میں نہ صرف حکومت بلکہ خود انجنی کمار کا شخصی امیج متاثر ہوگا۔ لہذا مقدمات سے فوری دستبرداری اختیار کی جائے ۔ انہوں نے کہا اکہ ملین مارچ میں وہ خود شریک رہے اور عوام کے جذبہ اور ڈسپلن کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے۔ احتجاج کرنا ہر شخص کا دستوری اور جمہوری حق ہے ۔ حکومت مقدمات کے ذریعہ عوام کی آواز کو کچلنا چاہتی ہے۔ مشتاق ملک نے ہنمنت راؤ کو مقدمات کی تفصیل سے واقف کرایا اور کہ کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی مقدمات کا سامنا کرنے تیار ہے۔