٭ کوروناوائرس یا کوویڈ۔19 ہر گذرتے دن کے ساتھ دنیا بھر کیلئے پیچیدہ معمہ بنتا جارہا ہے۔ اب تک چین نے اس بات پر اعتراض نہیں کیا تھا کہ کوروناوائرس کی وباء اس کے شہر ووہان سے شروع ہوئی مگر اب بیجنگ حکومت نے بالکلیہ نیا دعویٰ پیش کرتے ہوئے سائنسدانوں کے ذریعہ کہلوایا ہیکہ انوکھا کوروناوائرس کا مبداء شاید ووہان سی فوڈ مارکٹ نہ ہو جسے عالمی وباء کوویڈ۔19 کیلئے موردالزام ٹھہرایا جارہا ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کے سرکاری اخبار پیپلز ڈیلی نے چہارشنبہ کو انکشاف کیا کہ نئے ثبوت سے پتہ چلتا ہیکہ اس وائرس کی منتقلی کئی مقامات سے ہوئی ہے۔ اخبار کے مطابق چینی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہیکہ یہ وائرس صرف ووہان سے شروع نہیں ہوا بلکہ اور بھی مقامات ہیں جو اس کے پھیلاؤ کا سبب بنے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ چین کی باتوں سے مطمئن نہیں ہے۔ امریکہ اور کئی یوروپی ممالک نے جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وائرس کے اصل مقام کا پتہ چلایا جاسکے جس نے ساری مغربی دنیا کو پریشان کردیا۔