ٹائیفائیڈ ، ڈینگو اور ملیریا کے مریضوں میں اضافہ

   

سرکاری و خانگی دواخانے مریضوں سے پُر ، ابتدائی علامتوں پر ڈاکٹرس سے رجوع ہونے کا مشورہ
حیدرآباد۔19۔اکٹوبر(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآبادوسکندرآباد میں ٹائیفائیڈ اور ڈینگو کے علاوہ ملیریا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے اور نمونیا کی شکایات کے ساتھ رجوع ہونے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا جانے لگا ہے۔ شہر حیدرآباد کے سرکاری دواخانوں کے علاوہ خانگی دواخانوں اور کلینکس میں روزانہ ملیریا‘ نمونیا اور ٹائیفائیڈ کے مریضوں کی بڑی تعداد ڈاکٹرس سے رجوع ہونے لگی ہے ۔ ان وبائی امراض کے سلسلہ میں ڈاکٹرس کا کہناہے کہ اگر فوری طور پر ان پر قابو پانے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں مریضوں کو کمزوری اور نقاہت کا سامنا کرنے کے علاوہ اعضاء شکنی اور دیگر شکایات کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے اسی لئے سردی ‘ بخار ‘ کپکپی اور نزلہ کی شکایات کے ساتھ ہی ڈاکٹر سے رجوع ہوتے ہوئے تشخیص کروانے کے اقدامات کرنے چاہئے ۔ماہر اطباء کے مطابق موسم کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ وبائی امراض پھیلنے کی شکایات عام ہوتی ہیں لیکن اس مرتبہ رات اور دن کے موسم میں پائے جانے والے تغیر کے نتیجہ میں یہ حالات پیدا ہورہے ہیں اور اس کے علاوہ پانی میں پائی جانے والی آلودگی کے سبب ان امراض کا شکار ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جانے لگا ہے۔ نمونیا کا شکار ہونے والے مریضوں میں پائی جانے والی علامات کے سلسلہ میں ڈاکٹرس کا کہناہے کہ سانس لینے میں تکلیف ‘ سینے میں درد کی شکایت‘ کھانسی ‘ بخار اور بھوک نہ لگنا معمول کی بات ہونے لگتی ہے ۔ نمونیا کا شکار ہونے والے مریضوں کو مکمل صحتیاب ہونے کے لئے 4تا21یوم لگ سکتے ہیں لیکن انہیں اپنے مکمل علاج پر توجہ دینی چاہئے تاکہ ان کی قوت مدافعت کو مستحکم بنانے میں مدد حاصل ہوسکے۔ بتایاجاتا ہے کہ نمونیا‘ ٹائیفڈ ‘ ملیریا کا شکار ہونے کی صورت میں مریض کی قوت مدافعت میں کمزوری پیدا ہونے لگتی ہے اور اس کمزوری کی وجہ سے دیگر عوارض کا شکار ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ مریض کو ابتدائی طور پر اس بات کا احساس نہیں ہوتا ہے کہ وہ ان وبائی امراض کا شکار ہوچکا ہے لیکن جب مسلسل صحت میں بگاڑ پیدا ہونے لگتا ہے تو ایسی صورت میں مریض ڈاکٹر س سے رجوع ہوتے ہیں اور ان کے علاج کے آغاز کے بعد ان کی صحت اور قوت مدافعت کی بنیاد پر ان کے علاج کی مدت متعین ہوتی ہے اسی لئے مریض یا اس کے رشتہ داروں کو خوفزدہ ہونے کے بجائے علاج پر توجہ دینی چاہئے ۔ مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کے سلسلہ میں سرکاری دواخانوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ یومیہ ان امراض کا شکار1000 سے زائد مریض دواخانوں سے رجوع ہونے لگے ہیں جن میں 70 فیصد مریضوں کا تعلق شہر حیدرآبادوسکندرآباد سے ہے۔ دونوں شہروں میں آلودہ پانی کے سبب بھی ان امراض میں اضافہ کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹرس نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ نل سے حاصل کئے جانے والے پانی کو گرم کئے بغیر استعمال کرنے سے گریز کرنے کے علاوہ اطراف و اکناف کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے اقدامات کریں۔